جب گاڑی پٹری سے اتر جائے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۸
جب گاڑی پٹری سے اتر جائے
گاڑی چلنے کی ایک صورت وہ ہے کہ وہ اپنی مقررہ سڑک پر چل رہی ہو۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ سڑک کے دائیں بائیں اتر کر کسی پگڈنڈی پر دوڑنے لگے۔ بظاہر گاڑی دونوں صورتوں میں چل رہی ہوگی۔ مگر گاڑی کا چلنا وہی چلنا ہے۔ جب کہ وہ اپنی شاہراہ پر چل رہی ہو۔ اگر وہ شاہراہ کو چھوڑ کر ادھر ادھر کے راستوں پر چلنے لگے تو یہ چلنا نہیں بلکہ صرف بھٹکنا ہوگا۔ اور بھٹکنے والی گاڑی کبھی اپنے مسافروں کو منزل پر نہیں پہنچاتی ۔
ایسا ہی کچھ معاملہ دین کا ہے۔ دین کی بھی ایک شاہراہ ہے۔ اور اسی کے ساتھ شاہراہ کے دائیں بائیں بہت سی پگڈنڈیاں ہیں۔ دین کی گاڑی اگر اپنی شاہراہ سے اتر کر ادھر ادھر کے راستوں پر دوڑنے لگے تو بظاہر یہ بھی دیتی سفر نظر آئے گا۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ بھٹکنا ہوگا۔ کیونکہ دینی سفر کا مقصد اپنے آپ کو خدا تک پہنچانا ہے اور خدا کسی آدمی کو شاہراہ پر ملتا ہے نہ کہ ادھر ادھر کی پگڈنڈیوں پر۔ موجودہ زمانہ میں بہت بڑے پیمانہ پر دینی سرگرمیاں وجود میں آئی ہیں۔ مگر اکثر سرگرمیاں اطراف کے راستوں پر بھٹکنے والی سرگرمیاں ہیں نہ کہ شاہراہ ہدایت پر چلنے والی سرگرمیاں۔ ان سرگرمیوں میں سے کوئی ہے جس نے اسلام کی دعوت کو جنت کی بشارت کی بنیاد پر اٹھارکھا ہے حالانکہ صحیح اسلامی دعوت وہ ہے جو جہنم سے ڈرانے کی بنیاد پر اٹھے۔ کوئی اسلام کے نام پر احتساب اغیار کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہے حالاں کہ اسلام کا اصل رخ ہمیشہ احتساب خویش ہوتا ہے۔ کوئی ہے جس نے دین کی جزئیات کو اپنا مرکز و محور بنا رکھا ہے حالاں کہ دین کا مرکز و محور کلیاتی مسائل ہیں نہ کہ جزئیاتی مسائل۔ کوئی ملت کو دنیوی یا مادی مصائب سے بچانے کے نام پر اسلامی جہاد میں مصروف ہے۔ حالانکہ اسلامی جہاد صرف وہ ہے جو لوگوں کو آخرت کے مصائب سے بچانے کے لئے کیا جائے۔ کسی نے کسی "ظالم" اور کسی "کافر" کو ختم کرنے کے لئے ہنگامہ جاری رکھاہے حالانکہ اسلام کی مہم یہ ہے جو ظلم اور کفر کے خلاف اٹھے نہ کہ ظالم اور کافر کے خلاف۔
جب چلتی ہوئی گاڑی پٹری سے اتر جائے تو ہر شخص کو معلوم ہے کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ مگر دین کی گاڑی ہر ایک پٹری سے اتار کر دوڑا رہا ہے اور کسی کو اس کے ہولناک انجام کا احساس نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام گاڑی کے پٹری سے اترنے کا انجام فوراً سامنے آجاتا ہے اور دین کی گاڑی کو پٹری سے اتار کر دوڑانے کا انجام موت کے بعد آدمی کے سامنے آئے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues