ضمیر کے خلاف
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۴۲
ضمیر کے خلاف
مشہور انگریز مورخ آرنلڈ ٹائن بی (۱۸۸۹ - ۱۹۷۵) نے اپنی آخر عمر میں ایک بار کہا کہ فلسطین پر یہودیوں کا بطور تاریخی وطن اپنا حق جتانا ایسا ہی ہے جیسے ریڈ انڈین قبائل کناڈا کی واپسی کا مطالبہ کریں۔ یہودیوں نے نازیوں کے ظلم پر بے شمار کتابیں لکھی ہیں مگر خود یہودی فلسطینی عربوں کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک کر رہے ہیں وہ بالکل اسی قسم کا ہے جو نازیوں نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا۔ ٹائن بی نے اپنا یہ بیان کناڈا میں دیا تھا۔ اس وقت کناڈا میں حکومت اسرائیل کے سفیر مسٹر ہر زگ تھے۔ مسٹر ہر زگ نے برطانوی مورخ کو دعوت دی کہ اس مسئلہ پر وہ اس سے مباحثہ کریں۔ آرنلڈ ٹائن بی نے اس کو قبول کر لیا۔ اس کے بعد مانٹریل کی میک گل یونیورسٹی میں ایک تقریب ہوئی جس میں دونوں جمع ہوئے۔ مسٹر ہر زگ نے کہا: جرمن نازیوں نے ساٹھ لاکھ یہودیوں کو مار ڈالا تھا۔ اس کے مقابلہ میں فلسطین میں جو عرب بے گھر ہوئے ہیں ان کی تعداد بہت معمولی ہے۔ ان دونوں کو ایک جیسا کس طرح کہا جا سکتا ہے ۔ آرنلڈ ٹائن بی نے جواب دیا کہ میں نے جب نازیوں اور اسرائیلیوں کے مظالم کو ایک جیسا کہا تھا تو اس سے مراد تعداد نہیں بلکہ جرم کی نوعیت تھی۔ کسی شخص کے لئے سوئی صد سے زیادہ برا ہونا ممکن نہیں۔ قاتل کہلانے کے لئے ایک شخص کو قتل کر دینا کافی ہے۔ میں حیران ہوں کہ آپ لوگ میرے الفاظ پر کیوں اس قدر بوکھلا اٹھے ہیں۔ میں نے وہی بات کہی ہے جو تم میں سے ہر ایک کا ضمیر کہہ رہا ہے۔ جب بھی آدمی کسی سچائی کی تردید کرتا ہے تو سب سے پہلے وہ خود اپنی تردید کر رہا ہوتا ہے ۔ سچائی ہمیشہ آدمی کے اپنے دل کی آواز ہوتی ہے مگر آدمی ضد، تعصب اور اپنی چھوٹی بڑائی کو قائم رکھنے کی خاطر اس کو نہیں مانتا ، وہ اپنے انکار کو حق بجانب ثابت کرنے کے لئے ایسے الفاظ بولتا ہے جن کے بارے میں خود اس کا دل گواہی دے رہا ہوتا ہے کہ ان میں کوئی وزن نہیں۔
آدمی کی سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ وہ اپنے ضمیر کا ساتھ نہ دے سکے ۔ ضد اور تعصب اور مصلحت سے مغلوب ہو کر وہ ایسے رخ پر چلنے لگے جس کے متعلق اس کا اندرونی ضمیر آواز دے رہا ہو کہ وہ صحیح رخ نہیں ہے ۔ یہ اپنی تردید آپ کرنا ہے یہ اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں قتل کرنا ہے۔ یہ اپنے مجرم ہونے پر خود گواہ بننا ہے ۔ کیسی عجیب ہے یہ محرومی ۔ مگر جب آدمی کی بے حسی بڑھ جاتی ہے تو وہ اپنی محرومی کی ان کارروائیوں کو اپنی فتح سمجھتا ہے۔ وہ اپنے کو ہلاک کر رہا ہوتا ہے مگر سمجھتا ہے کہ میں اپنے آپ کو زندگی دے رہا ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues