Al-Risala · December 1981 · page 43

نفسیات کا دخل

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۴۳

نفسیات کا دخل

جدید مغربی فکریہ ہے کہ انسان اور دوسرے تمام حیوانات ارتقائی عمل کے ذریعہ وجود میں آئے ہیں۔ انیسویں صدی میں اس سلسلے میں مغرب کے سامنے دو مختلف نظریات آئے۔ ایک وہ جس کو فرانسیسی عالم لامارک ( ۱۸۲۹ - ۱۷۴۴ء) نے پیش کیا تھا۔ دوسرا وہ جس کو انگریزی عالم ڈارون ( ۱۸۸۲ - ۱۸۰۹) کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ مغرب میں ڈارون کے نظریہ کو زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ اور اس کے مقابلہ میں لامارک کے نظریہ کو ناقابل لحاظ سمجھ کر چھوڑ دیا گیا۔

اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ لامارک کے نظریہ کے مقابلہ میں ڈارون کا نظریہ زیادہ طاقت ور یا زیادہ ثابت شدہ تھا۔ اس کی وجہ زیادہ تر نفسیاتی تھی۔ ڈارون کے نظریہ میں انیسویں صدی کے مغربی انسان کو نفسیاتی ملتی تھی جو جدید قوتوں سے مسلح ہو کر سارے عالم کو اپنی نو آبادی بنا دینا چاہتا تھا، جب کہ لامارک کے نظریہ میں یہ نفسیاتی تسکین موجود نہ تھی۔

لامارک اور ڈارون دونوں زندگی کو ایک ارتقائی واقعہ مانتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ لامارک کا زور زیادہ تر وراثتی اوصاف پر ہے اور ڈارون کا زور تنازع للبقاء کے درمیان انتخاب فطری پر۔ یعنی لامارک کے نزدیک کسی ابتدائی نوع سے زیادہ ترقی یافتہ نوع اس طرح بنتی ہے کہ ایک فرد کے اکتسابی اوصاف وراثتی طور پر اگلی نسل کو منتقل ہوتے ہیں۔ یہ انتقال نسل در نسل عرصہ دراز تک جاری رہتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک نوع بالآخر دوسری نوع کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ دوسری طرف ڈارون کے مطابق یہ ہوتا ہے کہ ایک حیوان کے کئی بچوں میں سے ایک بچہ پیدائشی طور پر کسی خصوصیت میں دوسروں سے زیادہ ہوتا ہے۔ بقائے حیات کی جد و جہد میں یہ اضافی خصوصیت والا حیوان باقی رہتا ہے اور دوسرے حیوانات ختم ہو جاتے ہیں۔ اس کی یہ اضافی خصوصیت توالد و تناسل کے ذریعہ اگلی نسلوں میں منتقل ہوتی ہے۔ اس طرح بقائے حیات کی جد و جہد کے دوران زیادہ صالح کا انتخاب ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ صلاحیت نسل در نسل جمع ہوتے ہوتے ایک بالکل نئی نوع میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔

نظریات میں اکثراوقات نفسیات کا دخل ہوتا ہے۔ آدمی ایک چیز کو اختیار کرتا ہے اور اس کو نظریاتی صداقت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ حالاں کہ محض اپنی برائی پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہوتی ہے۔ اس نے اپنی خواہش کے تحت ایک چیز کو چھوڑا اور دوسری چیز کو لے لیا۔ مگر جب اس کی تشریح کرنے کا وقت آیا تو اس انداز میں اس کی تشریح کرنے لگا گویا کہ اس کو حق پا کر اس نے اسے اختیار کیا تھا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues

Printed page