Al-Risala · February 1981 · page 6

ایک واقعہ دو انجام

الرسالہ، فروری ۱۹۸۱، صفحہ ۶

کے ذریعہ فرانسیسی لشکر پر آگ کے بان پھینکنا شروع کئے ۔ یہ بان جب منجنیقوں سے نکل کر دشمن کی طرف بڑھتے تو ایسا نظر آتا جیسے بڑے بڑے آتشیں اڑرہے ہوں اڑ رہے ہوں۔ فرانسیسی، جن کے پاس اس وقت پرانے وتی ہتھیاروں کے سوا اور کچھ نہ تھا، ان کے لئے یہ بان ایسے ہی بھیانک تھے جیسے آج کسی پس ماندہ اور بے سرو سامان ملک پر جدید ترین راکٹوں کے ذریعہ حملہ کر دیا جائے۔ اسی طرح مسلمان تہذیب و تمدن کے تمام پہلوؤں میں نمایاں طور پر اہلِ یورپ سے بڑھے ہوئے تھے۔ چنانچہ صلیبی جنگوں کے ناکام تجربہ کے بعد یورپ نے فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کو شکست دینے کے لئے اب اس کو دوسرے قسم کی جنگ چھیڑنی ہے، اور وہ یہ کہ مسلمانوں کے ہنر اور اُن کے علوم کو سیکھ کر اُنھیں کے ہتھیاروں سے انھیں شکست دی جائے۔

اب ایک طرف یورپ کے مذہبی طبقہ نے روحانی صلیبی جنگ (Spiritual Crusades) کا نعرہ دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کے مذہبی علوم کو سیکھا جائے۔ اور مسلمانوں کی تاریخ اور اُن کے عقائد کو اس طرح بگاڑ کر پیش کیا جائے کہ مسلمان اپنے دین سے متنفر ہو جائیں اور عیسائیت قبول کرلیں تاکہ وہ قوم جس کو فوجی میدان میں شکست نہیں دی جاسکی ہے، اس کو عددی حیثیت سے کمزور کرکے مغلوب کیا جاسکے۔ عیسائی مشنری تحریک پہلی بار صلیبی جنگوں کے زمانے میں شروع ہوئی۔ پہلا شخص جس نے ۱۱۱۵ء میں ماؤنٹ کارمل پر مشنری نظام قائم کیا وہ ایک صلیبی ہی تھا۔ بعد کو فرانسس کن (۱۲۱۹) نے اس کی پیروی کی۔ یہ مشنری تحریک آج ساری دنیا میں سب سے زیادہ طاقت ور تبلیغی ادارہ کی حیثیت سے کام کر رہی ہے۔ اس کی کوششیں اس حد تک کامیاب ہوئی ہیں کہ ساری دنیا کا لٹریچر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں غلط قسم کی باتوں سے بھر گیا ہے۔

دوسری طرف مسلمانوں کا فلسفہ و سائنس اور ان کے علوم و فنون سیکھنے کی تحریک زور شور سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ یورپ کی درس گاہوں میں عربی زبان پڑھانے کا انتظام کیا گیا۔ مسلمانوں کی تصنیفات کے ترجمے یورپ کی زبانوں میں کئے جانے لگے ۔ یورپ کے طلبہ مسلم شہروں میں تحصیل علم کے لئے جانا شروع ہوئے ۔

جنگ کی یہ نئی تکنیک اختیار کرنے کی وجہ سے یورپ کو اندرونی طور پر مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت یورپ کے قدامت پسند حلقوں میں عربی زبان کی توسیع کی حوصلہ افزائی کے سلسلہ میں ناراضگی پائی جاتی تھی جس کی وجہ خاص طور پر یہ اندیشہ تھا کہ عربی سیکھنے سے عیسائیوں کے درمیان اسلامی خیالات پھیلنا شروع ہو جائیں گے، مثال کے طور پر فرانسس کن راہب راجر بیکن - ۱۲۱۴) جو اپنے وقت کا مشہور انگلستانی عالم تھا، اس نے جب عربی زبان کی اہمیت پر زور دیا تو آکسفورڈ کے علماء چلا اٹھے۔ "بیکن مسلمان (Saracen) ہوگیا مگر اس طرح کی مخالفتوں کے باوجود مسلمانوں کی زبان اور ان کے علوم سیکھنے کا رجحان بڑھتا رہا۔ مسلم محققین کے حاصل کو لے کر یورپ نے اپنی کوشش سے اس میں اضافے کئے اور اتنی ترقی کی کہ تاریخ میں پہلی بار قوت کا معیار بدل دیا اور بالآخر مسلمانوں کو ہر میدان میں شکست دے کر علم و عمل کی پوری دنیا کا مالک بن گیا۔ جدید مورخین نے تقریباً متفقہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ یورپ کی نشأۃ ثانیہ کا اہم ترین محرک وہ علوم تھے جو مسلمانوں کی معرفت یورپ تک پہنچے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1981 All issues

Printed page