حالی اب آؤ پیروی مغربی کریں
الرسالہ، فروری ۱۹۸۱، صفحہ ۷
(ویسٹرن سولنیتریشن، اور ڈومینکل برن)
اس کے پانچ سو برس بعد تاریخ دوسرا منظر دیکھتی ہے۔ یورپ کی ترقی اور عروج سے متاثر ہو کر مسلمانوں کے اندر یہ رجحان ابھرا کہ وہ یورپ کے علوم و فنون کو سیکھیں۔ مگر یہاں اس رجحان کا محرک اس سے بالکل مختلف تھا۔ جو یورپ کی تاریخ میں ہمیں نظر آتا ہے۔ سرسید احمد خاں جو پروفیسر گب کے الفاظ میں اسلام میں پہلی جدت پسند تنظیم (Modernist Organization) کے بانی تھے۔ انھوں نے ۱۸۷۵ میں علی گڑھ کالج قائم کیا اور اس پر اپنی ساری زندگی وقف کر دی ۔ یہاں تک کہ ۱۹۲۰ میں وہ یونیورسٹی بن گیا، وہ یورپی طرز کی تعلیم کے زبردست حامی تھے۔ ان کا مقصد اس تعلیم سے کیا تھا اس کی ترجمانی ان کے رفیق خاص مولانا حالی نے ان الفاظ میں کی ہے:
حالی اب آؤ پیروی مغربی کریں
سرسید نے جب انگلستان سے واپس آکر دسمبر ۱۸۷۰ میں تہذیب الاخلاق نکالنا شروع کیا تو انھوں نے پہلے پرچہ کے شروع میں لکھا:
" اس پرچہ کے اجراء سے مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو کامل درجہ کی سولینزیشن یعنی تہذیب اختیار کرنے پر راغب کیا جائے تاکہ جس حقارت سے سولائزڈ یعنی مہذب قومیں ان کو رکھتی ہیں وہ رفع ہو اور وہ بھی دنیا میں معزز و مہذب قوم کہلاویں"
سرسید جب ترقی کا تصور کرتے تو ان کے ذہن میں زرتی برق وردیاں پہنے کرنل اور میجر بنے ہوئے مسلمان نوجوان " ہوتے تھے۔ ان کا منتہائے مقصود ایسی تعلیم تھی جو مسلمانوں کو اعلیٰ عہدوں تک پہنچا سکے۔ سرسید کی تہذیب کو مہدی افادی نے بجاطور پر " اینگلو محمدن کلچر " کا نام دیا ہے ۔
کمال آتاترک (۱۹۳۸-۱۸۸۱) جو اس گروہ کا دوسرا نمایاں ترین نام ہے، وہ اس معاملہ میں سرسید سے بھی آگے تھے۔ ترکی میں مغربی تعلیم و تہذیب کی اشاعت سے کمال آتاترک کا مقصد کیا تھا، اس کا اندازہ اس عنوان سے ہوتا ہے جو اس مہم کو وہاں دیا گیا۔ کمال آتاترک اور ان کے ساتھیوں کے نزدیک یہ "غرب دوغرد" " تھا، جس کے معنی ترکی زبان میں _ "سمت مغرب میں سفر" کے ہیں۔ سمت مغرب میں سفر کا یہ کام اس درجہ اہم تھا کہ صرف رومن رسم الخط جاری کرنے اور ترکی باشندوں کو ہیٹ پہنانے کے لئے ہزاروں آدمی اس طرح ہلاک کر دیئے گئے گویا وہ ریاست سے بغاوت کے مجرم ہوں۔
اسی تقلیدی ذہنیت کا نتیجہ تھا کہ ہمارے ان مصلحین کی ساری توجہ بس یورپ کی تہذیب اور یورپ کے زبان و ادب کے حصول پر لگی رہی۔ سائنس اور ٹیکنالوجی جو مغربی قوموں کی ترقی کا اصل راز ہے، اس کو مسلمانوں کے اندر رائج کرنے کی انھوں نے زیادہ کوشش نہیں کی۔ سرسید نے تو صراحتہ مسلمانوں کے لئے ٹیکنیکل ایجوکیشن کی مخالفت کی اور اعلیٰ درجہ کی دماغی تعلیم " کو سب سے مقدم قرار دیا۔ یہی اس زمانہ میں تعلیم جدید کے حامیوں کا عام نقطہ نظر تھا۔ ان
‹ Previous page Next page › Contents of February 1981 All issues