جنت کیا ہے
الرسالہ، فروری ۱۹۸۱، صفحہ ۱۷
کر رہے ہیں۔ یہ شہد کی مکھی کمال درجہ پابندی کے ساتھ خدا کی مقرر کی ہوئی راہوں پر چل رہی ہے۔ مگر ان میں سے کسی کی محکومی شعوری محکومی نہیں۔ وہ خود اپنی بناوٹ کے اعتبار سے ویسے ہی ہیں جیسا کہ انہیں ہونا چاہئے۔ ساری کائنات میں یہ صرف انسان ہے جو ارادہ اور شعور کے ساتھ اپنے کو محکوم بناتا ہے۔ کائنات کی ہر چیز کامل طور پر خدا کی فرماں برداری کر رہی ہے۔ مگر انسان کی فرماں برداری اختیاری ہے اور دوسری چیزوں کی فرماں برداری بے اختیاری۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام چیزیں خدا کو سجدہ کر رہی ہیں۔ مگر ایک انسان جب سجدہ کرتے ہوئے زمین پر اپنا سر رکھتا ہے تو یہ تمام عالم کائنات کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہوتا ہے۔ کیونکہ دوسری چیزیں مجبورانہ سجدہ کر رہی ہیں مگر انسان شعور اور ارادہ کے تحت اپنا سر خدا کے آگے جھکا دیتا ہے۔ انسان کے ذریعہ اس کائنات میں شعوری اور اختیاری محکومی کا واقعہ وجود میں آتا ہے جس سے بڑا کوئی دوسرا واقعہ نہیں۔ یہی انسان کی اصل قیمت ہے۔ انسان وہ نادر مخلوق ہے جو اس کائنات میں شعور قدرت کے مقابلہ میں شعور عجز کی دوسری انتہا بنتا ہے۔ وہ کائنات کے صفحہ پر "عدد" کے مقابلہ میں "صفر" کا ہندسہ تحریر کرتا ہے۔ وہ خدا وندی انا کے مقابلہ میں اپنے بے انا ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ ایک شخص کا موحد بننا اس آسمان کے نیچے ظاہر ہونے والے تمام واقعات میں سب سے بڑا واقعہ ہے جس کا انعام کوئی سب سے بڑی چیز ہی ہو سکتی ہے۔ اسی سب سے بڑی چیز کا نام جنت ہے۔ جنت کسی کے عمل کی قیمت نہیں۔ جنت کسی بندے کے لئے خدا کی یہ بخشش ہے کہ اس کے بندے نے اپنے رب کو وہ چیز پیش کردی جو کائنات میں کسی نے پیش نہ کی تھی۔ اس لئے خدا نے بھی اس کو وہ چیز دے دی جو اس نے کسی دوسری مخلوق کو نہیں دیا تھا۔
جنت کیا ہے
جنت ایک انتہائی حیرت انگیز دنیا ہے جو خدا نے اپنے خاص بندوں کے لئے بنائی ہے۔ وہاں خدا کی صفاتِ کمال اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔ جنت کے بارے میں قرآن میں ہے کہ وہاں نہ حزن ہوگا اور نہ خوف۔ یہ نا قابل قیاس حد تک انوکھی صفت ہے۔ کیوں کہ دنیا میں ہم جانتے ہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا دولت مند یا حکمراں اس پر قادر نہیں کہ وہ غموں اور اندیشوں سے خالی زندگی اپنے لئے حاصل کر لے۔ جنت کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ وہاں ہر طرف "سلام سلام" کا چرچا ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت ایسے بلند انسانوں کی آبادی ہے جو ہر قسم کے منفی جذبات سے خالی ہوں گے۔ ان کے دلوں میں دوسروں کے لئے سلامتی اور خیر خواہی کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ جنت کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ وہاں آدمی جو غذا کھائے گا اور جو مشروبات پئے گا وہ بول و براز کی شکل میں نہیں خارج ہوگا بلکہ ایک خوشبودار ہوا نکلے گی اور اس کے ذریعہ تمام کثافت خارج ہو جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت ایسا لطیف مقام ہے جہاں غلاظت بھی یہ شکل خوشبو خارج
‹ Previous page Next page › Contents of February 1981 All issues