Al-Risala · February 1981 · page 18

جنت کیا ہے

الرسالہ، فروری ۱۹۸۱، صفحہ ۱۸

ہوئیتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ جنت میں نیند نہیں ہوگی جب کہ وہاں آدمی کی ہر خواہش پوری کی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت اتنی لذیذ جگہ ہے کہ آدمی ایک رات کی نیند کے بقد ر بھی اس سے جدا ہونا پسند نہ کرے گا حالاں کہ وہ اس کے اندر کھرب ہا کھرب سال سے بھی زیادہ مدت تک رہے گا۔ کیسا عجیب ہوگا جنت کا پڑوس اور کیسی عجیب ہوگی جنت کی زندگی۔ پھر ان سب سے بڑھ کر یہ کہ جنت وہ مقام ہے جہاں آدمی اپنے خدا کو دیکھ سکے گا۔ وہ خدا جو ہر قسم کی ناقابل قیاس خوبیوں کا مالک ہے۔ وہ خدا جس نے عدم سے وجود کو پیدا کیا ۔ وہ خدا جو آسمان کی عظمتوں کا خالق ہے۔ وہ خدا جس نے سورج کو چمکایا۔ وہ خدا جو درختوں کی سرسبزی اور پھولوں کی مہک میں ظاہر ہوا۔ ایسا خدا کیسا عظیم اور کیسا حسین ہوگا اس کا تصوراتی قیاس بھی کسی کے لئے ممکن نہیں۔ جس جنت میں ایسا نفیس ماحول ہو، جہاں کائنات کے رب کا دیدار حاصل ہوتا ہو اس کی لذتوں اور راحتوں کو کون بیان کر سکتا ہے مومنانہ زندگی ایسی قیمتی جنت کسی کو سستے داموں نہیں مل سکتی۔ یہ تو اسی خوش نصیب روح کا حصہ ہے جو حقیقی معنوں میں خدا کا مومن بندہ ہونے کا ثبوت دے۔ مومن ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنی عام دنیا دارانہ زندگی کے ساتھ کچھ اسلامی عملیات کا جوڑ لگالے۔ مومن ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام ہی آدمی کی پوری زندگی بن جائے۔ اسلام ہاتھ کی چھنگلیا نہیں بلکہ وہ آدمی کا پورا ہاتھ ہے۔ جو شخص اسلام کو اپنی زندگی میں غیر موثر ضمیمہ بنا کے رکھے اس نے اسلام کی توہین کی۔ اسی طرح مومن ہونے کا مطلب بھی نہیں ہے کہ آدمی "خدائی فوجدار بن کر کھڑا ہو جائے اور حکمرانوں کے خلاف اپوزیشن کا پارٹ ادا کرنے کو اسلام کا کمال سمجھنے لگے۔ اس قسم کی چیزیں اسلام نہیں، وہ خود ساختہ سیاست کو اسلام کا نام دینا ہے۔ پہلی قسم کے لوگ اگر دین کی کم قدری کے مجرم ہیں تو دوسری قسم کے لوگ دین کی تحریف کے۔ اور یہ دونوں ہی چیزیں آدمی کو خدا کی ناراضگی کا مستحق بناتی ہیں نہ کہ خدا کے انعام کا۔

مومن وہ ہے جس کے سینہ میں اسلام ایک نفسیاتی طوفان بن کر داخل ہوا ہو۔ جو خدا کو اتنا قریب پائے کہ اس سے اس کی سرگوشیاں جاری ہو جائیں۔ جس کی تنہائیاں خدا کے فرشتوں سے آباد رہتی ہوں۔ جس کے اسلام نے اس کی زبان میں خدا کی لگام دے رکھی ہو۔ اور جس کے ہاتھوں اور پیروں میں خدا کی بیڑیاں پڑی ہو ہوں۔ جس کے اسلام نے اس کو حشر کی آمد سے پہلے حشر کے میدان میں کھڑا کر دیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ کافر مرنے کے بعد گزرنے ہے وہ مومن پر جیتے جی اسی دنیا میں گزر جاتا ہے۔ دوسرے لوگ جن باتوں کو اس وقت پائیں گے جب کہ خدا غیب کا پردہ پھاڑ کر سامنے آ جائے گا، مومن ان باتوں کو اس وقت پالیتا ہے جب کہ خدا ابھی غیب کے پرد

‹ Previous page Next page › Contents of February 1981 All issues

Printed page