اسلامی دعوت
الرسالہ، فروری ۱۹۸۱، صفحہ ۲۳
اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سا فتنہ تھا جس کو ختم کرنے کا حکم دکا گیا۔ وہ شرک کا فتنہ تھا۔ چنانچہ مفسرین نے ان آیات میں فتنہ کی تفکسیر "شرک" سے کی ہے۔ تاہم یہاں فتنہ سے مراد مطلق شرک نہیں بلکہ شرک جارح ہے۔ کیونکہ شرک جب جارح ہو تبھی وہ روکنے والا بنتا ہے۔ حباقیٰ لا تکون فتنۃ کا مطلب ہے حتیٰ لا یفتن رجل عن دینہ۔ یعنی شرک جارح سے لڑ کر اسے ختم کر دو تاکہ دین شرک بے زور اور مغکوب ہو کر رہ جائے اور غالب دین کی حیثیت سے صرف دین توحید دنیا میں باقی رہے۔
شرک اپنی ابتدائی صورت میں محض ایک عقیدہ ہے۔ مگر قدیم زمانہ میں اس نے "فتنہ" کا مقام حاصل کر لیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قدیم زمانہ میں انسانی فکر پر شرک کا غلبہ تھا۔ زندگی کے ہر معاملہ کو شرک کے نقطہ نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ سیاست و حکومت کی بنیاد بھی شرک کے اوپر قائم تھی۔ لوگ سورج اور چاند جیسی چیزوں کو دیوتا سمجھتے تھے اور شاہی خاندان اپنے آپ کو ان دیوتاؤں کی اولاد بتا کر لوگوں کے اوپر حکومت کرتا تھا۔ اس بنا پر جب توحید کا داعی یہ کہتا کہ خدا صرف ایک ہے، باقی تمام چیزیں اس کی مخلوق اور محکوم ہیں تو قدیم بادشاہوں لو یہ نظریہ ان کے حق حکمرانی کی تردید کرتا ہوا نظر آتا تھا۔ وہ اس کو اپنا حریف سمجھ کر اس کو مٹانے کے درپے ہو جاتے۔ عرب میں اور اطراف عرب میں توحید کی بنیاد پر جو اسلامی انقلاب آیا اس نے شرک کو فکری غلبہ کے مقام سے ہٹا دیا۔ اب شرک کی حیثیت ایک ذاتی عقیدہ کی ہو گئی نہ کہ ایک ایسے عوامی نظریہ کی جس کے اوپر سماجی زندگی یا پورا نظام قائم ہو۔ نتیجہ شرک کا رشتہ اقتدار سے ٹوٹ گیا۔ کیونکہ اب شرک کی بنیاد پر کسی کے لئے حق حکمرانی کا دعویٰ کرنے کا موقع باقی نہیں رہا تھا۔
معلوم انسانی تتاریخ میں یہ تبدیلی بالکل پہلی بار آئی۔ اس کے ہمہ گیر اثرات میں سے دو چیزیں یہاں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ایک یہ کہ جب یہ معلوم ہوا کہ خدا صرف ایک ہے اور بقیہ تمام چیزیں اس کی مخلوق اور محکوم ہیں تو اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر مظاہر فطرت کے تقدس کا ذہن ختم ہو گیا۔ وہ چیزیں جو اب تک انسان کے لئے پرستش کا عنوان بنی ہوئی تھیں۔ وہ اس کو اپنی خادم نظر آنے لگیں (خلق لکم ما في الارض جميعا، بقره ۲۹) ب آدم نے چاہا کہ وہ ان چیزوں کو جانے اور ان کو استعمال کرے۔ انسانی ذہن کی یہی وہ تبدیلی ہے جس نے اریخ میں توہماتی دور کو ختم کر کے سائنس کے دور کو شروع کیا۔ اسی کے ساتھ دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ بادشاہت کا در کم از کم نظریاتی طور پر ختم ہو گیا اور عوامی حکمرانی کے دور کا آغاز ہوا۔ جب یہ معلوم ہو گیا کہ تمام انسان یکساں ہیں، سی انسان کے اندر کوئی خدائی صفت نہیں تو اس کے بعد بالکل قدرتی طور پر خدائی حق حکمرانی کے لئے زمین تی نہیں رہی۔
ان دونوں انقلابات کا آغاز مدینہ سے ہو گیا تھا۔ اس کے بعد وہ دمشق، بغداد، اسپین اور سسلی ہوتا ہوا
‹ Previous page Next page › Contents of February 1981 All issues