Al-Risala · February 1981 · page 22

اسلامی دعوت

الرسالہ، فروری ۱۹۸۱، صفحہ ۲۲

کوئی آدمی دوسرے کے لیے نہیں کماتا، اسی طرح کوئی آدمی بیرونی محرک کے لیے با کردار بھی نہیں بنتا۔ جو لوگ "نظام" کے نام پر افراد سے باکردار بننے کی اپیلیں کرتے ہیں وہ صرف اپنی سطحیّت کا ثبوت دیتے ہیں، اور دوسرے کے بارہ میں کمتر اندازہ کا۔ پیغمبر کا کام اسلام کا مشن ایک ہی مشن ہے۔ اور وہ ہے توحید کا پیغام لوگوں تک پہنچانا۔ ایک ایک شخص کو موحد بنانے کی کوشش کرنا۔ یہی قدیم ترین زمانہ سے تمام نبیوں کا مشن تھا۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام زمانوں میں توحید کی دعوت جان کی قربانی کی قیمت پر دینی ہوتی تھی۔ توحید کا پیغام لے کر اٹھنے والے آگ کے الاؤ میں ڈال دئے جاتے اور آروں سے چیر دئے جاتے ۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قدیم زمانہ میں شرک کو فکری غلبہ کا مقام حاصل تھا۔ حتی کہ سیاست کی بنیاد بھی شرک پر قائم تھی ۔ قدیم زمانہ کے بادشاہ لوگوں کو یہ باور کرا کے ان کے اوپر حکومت کرتے تھے کہ وہ دیوتاؤں کی اولاد ہیں۔ ان کے اندر خدا حلول کر آیا ہے۔ اس لئے جب توحید کا داعی یہ آواز بلند کرتا کہ خدا صرف ایک ہے، کوئی اس کا شریک نہیں ، تو قدیم زمانہ کے بادشاہوں کو یہ آواز براہ راست ان کے حق حکمرانی کو چیلنج کرنے والی نظر آتی تھی۔ اس میں انہیں اپنی مشرکانہ سیاست کی تردید دکھائی دیتی تھی۔ چنانچہ وہ اپنے سیاسی مفاد کی بنا پر توحید کے داعیوں کے دشمن بن جاتے اور بے رحمی کے ساتھ ان کو کچل دیتے۔

اللہ تعالی نے فیصلہ کیا کہ اس صورت حال کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ قرآن میں پیغمبر آخر الزماں اور آپ کے ساتھیوں کو سکھایا گیا کہ تم اس طرح دعا کرو: رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرَاً كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا (خدایا! ہمارے اوپر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے کے لوگوں پر ڈالا تھا)۔ یہ دعا کے انداز میں اس خدائی فیصلہ کا اظہار تھا کہ خدا انسانی تاریخ میں ایک نیا انقلاب لانے والا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اقتدار کارشتہ شرک سے ٹوٹ جائے گا۔ اب حکومت ایک خالص سیاسی معاملہ ہو گا نہ کہ اعتقادی معاملہ۔ یہی وہ خدائی منصوبہ تھا جس کی تکمیل کے لیے قرآن میں حکم دیا گیا : وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةً وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (انفال ۳۹) یعنی مشرکوں سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ کی حالت باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کا ہو جائے۔ فتنہ کے معنی آزمائش کے ہیں۔ فَتَنَ فُلاناً عَنْ رَأْيِہ کے معنی ہیں رائے سے پھیر دینا۔ قرآن میں آیا ہے: موسیٰ کو اس کی قوم میں سے چند نوجوانوں کے سوا کسی نے نہ مانا، فرعون اور اپنی قوم کے بڑے لوگوں کے ڈر سے جن کو اندیشہ تھا کہ فرعون ان کو ستائے گا (یونس ۸۳) اس آیت میں ان يَفْتِنَهُم کا لفظ ہے جو ستانے اور عذاب دینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ گویا فتنہ کے معنی تقریباً وہی ہیں جس کو انگریزی زبان میں Persecution کہتے ہیں۔ یعنی کوئی رائے یا عقیدہ رکھنے کی بنا پر کسی کو ستانا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1981 All issues

Printed page