Al-Risala · February 1981 · page 25

جدید انقلاب کی اسلامی اہمیت

الرسالہ، فروری ۱۹۸۱، صفحہ ۲۵

۱۔ قدیم زمانے کے بادشاہ لوگوں میں یہ عقیوہ بٹھاکر حکومت کرتے تھے کہ وہ سورج دیوتا یا چاند دیوتا کی اولاد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے میں توحید کی دعوت فوراُ سیاسی اقتدار کی حریف بن جاتی تھی اور مشرک بادشاہوں کے ظلم کا نشانہ بنتی تھی۔ شرک کی تردید کو وہ اپنے حق حکمرانی کی تردید کے ہم معنی سمجھتے تھے۔ اسلامی انقلاب کی تکمیل کے طور پر یورپ میں جو جمہوری انقلاب آیا ہے اس نے اس نزاکت کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا کیونکہ آج کا حکمراں عوامی رائے سے حکمرانی کا حق حاصل کرتا ہے نہ کہ خدا کے ساتھ اپنا مفروضہ الوہی رشتہ جوڑ کر۔ اس تبدیلی نے تاریخ میں پہلی بار یہ امکان کھول دیا کہ توحید کی تبلیغ اس اندیشہ کے بغیر کی جائے کہ پہلے ہی مرحلہ میں غیر ضروری طور پر اس کا ٹکراؤ سیاسی ادارہ سے ہو جائے اور وہ اس کو کچل کر رکھ دے، جیسا کہ اسلام سے پہلے ساری تاریخ میں ہوتا رہا ہے۔

۲۔ قدیم زمانے میں مظاہر فطرت (سورج، چاند، دریا وغیرہ) کو مقدس سمجھا جاتا تھا۔ توحید کی بنیاد پر ہونے والے اسلامی انقلاب اور اس کے زیر اثر پیدا ہونے والے مغرب کے سائنسی انقلاب کے بعد یہ ہوا کہ فطرت کے واقعات خدائی مظاہر کے بجائے عام مادی مظاہر سمجھے جانے لگے۔ جو چیز پہلے پوجنے کی چیز سمجھی جاتی تھی وہ اب تحقیق و تجسس کی چیز بن گئی۔ اس کے نتیجہ میں جدید سائنسی اور تکنیکی انقلاب پیدا ہوا جس نے بے شمار نئی طاقتیں انسان کے قبضہ میں دے دیں۔ اس انقلاب کے ذریعہ تیز رفتار سواریاں وجود میں آئیں اور جدید ذرائع ابلاغ (پریس، ریڈیو وغیرہ) تک انسان کی دسترس ہوئی۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوگیا کہ کسی عقیدہ کی تبلیغ عالمی اور بین الاقوامی سطح پر کی جاسکے۔ خدا کے دین کی دعوت مقامی دعوت کے مرحلہ سے گزر کر عالمی دعوت کے مرحلہ میں داخل ہوگئی۔

۳۔ اس انقلاب کے ذریعہ کائنات کے دہ چھپے ہوئے حقائق سامنے آئے جو توحید اور اس سے متعلق نظریات کے حق میں علمی اعلیٰ دلائل فراہم کر رہے ہیں۔ جنہوں نے قرآن کے کائناتی اشاروں کو کھول کر ہر ایک کے لئے انھیں قابل فہم بنا دیا ہے۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار وہ دور آیا جب کہ کائناتی نشانیاں معجزہ کا بدل بن جائیں۔ دینی حقیقتوں کو مشاہداتی دلائل کی سطح پر ثابت کیا جا سکے۔

۴۔ پھر اسی انقلاب کے ذریعہ تاریخ میں پہلی بار معاملات پر غور و فکر کا سائنسي، بالفاظ دیگر، واقعاتی نقطہ نظر پیدا ہوا۔ کائنات کا علم صرف اسی وقت حاصل ہوسکتا تھا جب کہ انتہائی حقیقت پسندانہ انداز میں اس پر غور کیا جائے۔ اس لئے اس کے اثر سے علمی دنیا میں یہی عام ذہن بن گیا۔ اب واقعات کو واقعات کی رو سے دیکھا جانے لگا نہ کہ خوش عقیدگی یا توہمات کے اعتبار سے۔ اب یہ فضا پیدا ہوئی کہ مذہب کی خالص علمی اور تاریخی تحقیق کی جائے۔ اسی انداز مطالعہ کا یہ نتیجہ تھا کہ موجودہ زمانہ میں علمی سطح پر یہ تسلیم کر لیا گیا کہ اسلام کے سوا جتنے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1981 All issues

Printed page