سیاسی انقلاب کی نوعیت
الرسالہ، فروری ۱۹۸۱، صفحہ ۲۶
مذاہب ہیں سب کے سب غیر تاریخی (اور اس بنا پر ناقابل اعتبار) ہیں۔ مذاہب کے درمیان جس مذہب کو تاریخی اعتباريت کا درجہ حاصل ہے وہ صرف اسلام ہے (ملاحظہ ہو دی بائبل دی قرآن اینڈ سائنس) مغرب کا غلبہ مسلم دنیا پر مسلم دنیا نے صلیبی جنگوں (۱۲۱۱ء - ۱۰۹۵) میں مسیحی یورپ پر فتح پائی تھی۔ مگر اس فتح کے بعد ہی برعکس عمل بھی شروع ہو گیا۔ مسیحی یورپ نے محسوس کیا کہ اس کی شکست کا سبب علمی اور فکری میدان میں مسلم دنیا سے اس کا پیچھے ہونا تھا۔ چنانچہ صلیبی جنگوں کے بعد یورپ نے تیزی سے مسلمانوں کے علوم اور عربی زبان کو سیکھنا شروع کر دیا۔ بعد کی صدیوں میں جب مسلم دنیا کے اہل علم یورپ کے ملکوں میں منتقل ہوئے تو وہاں عمل اور تیزی سے جاری ہو گیا۔ بالآخر مغرب کی ترقی اس نوبت کو پہنچی کہ وہ علم و عمل کے تمام شعبوں میں مسلم قوموں سے آگے بڑھ گیا۔ اب اس نے مسلم ممالک میں داخل ہونا شروع کیا اور انیسویں صدی تک یہ حال ہوا کہ تقریباً تمام مسلم دنیا پر مغربی قوموں کا تسلط قائم ہو گیا۔
یہی سیاسی حادثہ اس بات کا سبب بن گیا کہ مذکورہ قیمتی امکانات اسلامی دعوت کے حق میں استعمال نہ ہو سکیں۔ صلیبی جنگوں میں ہاری ہوئی قوموں کو دوبارہ مسلم علاقوں میں گھستے ہوئے دیکھ کر لوگ بچھاٹھے ساری مسلم دنیا میں مغرب کے خلاف سیاسی زور آزمائی شروع ہو گئی۔ حتیٰ کہ بہت سے لوگ سیاسی مقابلہ آرائی ہی کو عین اسلام ثابت کرنے لگے تاکہ لوگ جب اجنبی حکمرانوں سے لڑ کر فارغ ہوں تو خود اپنے ملکی حکمرانوں کے خلاف مقدس سیاسی جہاد چھیڑ دیں۔ اس فضا میں کسی کو یہ سوچنے کا موقع ہی نہ ملا کہ جدید دنیا نے کچھ نئے امکانات کھولے ہیں اور وہ اسلام کے حق میں کامیابی کے ساتھ استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ جدید مواقع انتظار کرتے رہے کہ ہم ان کو استعمال کر کے اسلام کی دعوت کو سارے عالم میں پھیلا دیں اور نتیجہ خدا کی نصرت کے مستحق ہوں۔ مگر ہماری سیاسی نفسیات نے ہم کو اُدھر توجہ دینے کی فرصت ہی نہ دی۔
سیاسی انقلاب کی نوعیت
سیاسی انقلاب کی اہمیت اسلام میں کیا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے سیاسی انقلاب دراصل اس کا نام ہے کہ اہل حق کو اہل باطل پر غلبہ حاصل ہو جائے (صفت) قرآن کی صراحت کے مطابق یہ غلبہ خدا کی توفیق اور نصرت سے حاصل ہوتا ہے (وما النصر الا من عند الله) اور خدا کی نصرت کا استحقاق حاصل کرنے کی واحد لازمی شرط دعوت ہے۔ اہل حق جب دعوت کے عمل کو اس کی تمام صالح شرائط کے ساتھ شروع کریں اور اس کو کرتے ہوئے اتمام حجت کے قریب پہنچادیں تو اس وقت اس دعوتی عمل کی تکمیل کے نتیجہ میں ایک طرف اہل حق انعام کے مستحق ہوجاتے ہیں اور دوسری طرف اہل باطل سزا کے مستحق۔ اس وقت خدائی منصوبہ کے تحت حالات میں تبدیلی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1981 All issues