فخر نہیں ذمہ داری
الرسالہ، فروری ۱۹۸۱، صفحہ ۲۹
یہ مسلم تحریکیں اپنی جس معذوری کی وجہ سے ’’مغرب بحیثیت استعمار‘‘ اور ’’مغرب بحیثیت جدید قوت‘‘ کو الگ الگ کرکے نہ دیکھ سکیں ، اسی معذوری کا یہ نتیجہ بھی ہوا کہ انہوں نے جدید قوموں کے خلاف اپنی مہم میں نہ تو نئی قوتیں فراہم کیں اور نہ نئے حالات کی رعایت کی۔ حد درجہ نادانی کے ساتھ سو سال سے بھی زیادہ عرصہ تک جان و مال کی قربانیاں دی جاتی رہیں جب کہ ان قربانیوں کے لیے قطعی طور طور مقدر تھا کہ اسباب کی اس دنیا میں وہ بالکل رائیگاں ہو کر رہ جائیں۔ اس طویل غیر حقیقت پسندانہ سیاست کی اب یہ نفسیاتی قیمت مسلمانوں کو دینی پڑ رہی ہے کہ پوری کی پوری مسلم دنیا ایک قسم کے فرضی جنون عظمت (Paranoia) کا شکار ہو کر رہ گئی ہے اور اب کوئی حقیقت پسندانہ بات اسے اپیل ہی نہیں کرتی۔
فخر نہیں ذمہ داری
پاکستان کے صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے یکم اکتوبر ۱۹۸۰ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک تقریر کی۔ ان کی ڈیڑھ گھنٹہ کی یہ تقریر ان کے اپنے الفاظ میں دنیا بھر کے ۹۰ کروڑ مسلمانوں کے نمائندہ کی حیثیت سے تھی۔ ان کی لکھی ہوئی تقریر کا ایک پیراگراف یہ تھا:
As they enter the 15th Century Hijra, the Islamic peoples, who have rediscovered their pride in their religion, their great culture and their unique social and economic institutions, are confident that the advent of this century would mark the beginning of a new epoch, when their high ideals of peace, justice, equality of man, and their unique understanding of the universe, would once again enable them to make a worthy contribution to the betterment of mankind. اب کہ اسلامی قومیں پندرہویں صدی ہجری میں داخل ہورہی ہیں، انہوں نے اپنے مذہب، اپنے عظیم کلچر اور اپنے بے مثل سماجی اور معاشی اداروں میں اپنے فخر کو دوبارہ دریافت کر لیا ہے۔ ان کو یقین ہے کہ اس صدی کا آغاز ایک نئے عہد کی ابتدا ثابت ہوگا جب کہ امن، انصاف، انسانی برابری اور کائنات کے بارے میں ان کا بے مثل شعور ان کو دوبارہ اس قابل بنائے گا کہ وہ انانیت کی بھلائی میں قابل قدر حصہ ادا کر سکیں۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے یہ بات موجودہ مسلمانوں کی تعریف کے طور پر کہی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اسی میں مسلمانوں کا وہ المیہ بھی چھپا ہوا ہے جس نے موجودہ زمانہ میں ان کی تمام اسلامی کوششوں کو بے قیمت بنا دیا ہے۔ آج ساری مسلم دنیا میں اسلام کے نام پر زبر دست سرگرمیاں جاری ہیں مگر یہ ساری دھوم فخر (Pride) کے پر پر ہے نہ کہ ذمہ داری کے طور پر۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیوی سرگرمی فخر کے احساس کی بنیاد پر اٹھتی ہے (حدید:۲۳) اور اخروی سرگرمی عبدیت کے احساس کی بنیاد پر (ذاریات:۵۶) فخر سے انسانیت اور مطالبہ کا جذبہ ابھرتا ہے اور عبدیت سے عجز اور ذمہ داری کا۔ اسلامی تحریک وہ ہے جو جہنم سے ڈرانے کے لیے اٹھے۔ مگر موجودہ زمانہ کی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1981 All issues