Al-Risala · February 1981 · page 28

موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکیں

الرسالہ، فروری ۱۹۸۱، صفحہ ۲۸

کی دعوت توحید کو تیسر (آسانی) کے حالات میں انجام دیا جائے جب کہ اس سے پہلے صرف عُسر (سختی) کے حالات ہی میں اس کو انجام دینا ممکن ہوتا تھا۔ اسی طرح یہ واقعہ بھی پہلی بار ہوا کہ خود انسان کے اپنے مسلمات کے مطابق اسلام کا دیگر ادیان کے مقابلہ میں واحد معتبر دین ہونا ثابت کیا جائے اور اس کو اعلمی ترین علیٰ شواہد سے اس طرح مدلل کر دیا جائے کہ کسی کے لئے انکار کی جرات باقی نہ رہے۔ نیز اس صدی میں پہلی بار تیز رفتار سواریاں اور تبلیغ کے جدید ذرائع انسان کے قبضہ میں آئے جن سے کام لے کر اسلام کے پیغام کو بین الاقوامی سطح پر پھیلایا جا سکتا تھا۔ مگر جو قومیں ان خدائی برکتوں کو ہماری طرف لا رہی تھیں وہ اتفاقی حالات کے نتیجہ میں ہماری سیاسی حریف بن گئیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ساری مسلم دنیا مغرب کے بارے میں مخالفانہ نفسیات کا شکار ہو گئی ، مغرب کی طرف سے آنے والے انقلاب کا افادی پہلو اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ حالاں کہ خدا نے مسلمانوں کے لئے ایسا امکان کھو لا تھا کہ وہ خود مغرب کے پیدا کردہ حالات کو اپنے دعوتی مقاصد میں استعمال کر کے مغرب کو نظریاتی طور پر فتح کر سکتے تھے۔ اگر مسلمانوں نے بروقت اس دانش مندی کا ثبوت دیا ہوتا تو چودھویں صدی ہجری میں وہ واقعہ دوبارہ نئے انداز سے پیش آتا جو آٹھویں صدی ہجری میں تاتاری فاتحین کے خادمان اسلام بن جانے کی صورت میں پیش آ چکا ہے۔

موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکیں

چودھویں صدی ہجری میں ساری مسلم دنیا میں بے شمار اسلامی تحریکیں اٹھیں۔ مگر ضمنی فرق کے باوجود یہ تمام تحریکیں رد عمل کی تحریکیں تھیں نہ کہ حقیقی معنوں میں مثبت تحریکیں۔ جدید مسلم قیادت "مغرب" کے نام سے جس چیز سے واقف ہوئی وہ صرف یہ تھا کہ یہ ایک حملہ آور قوم ہے جو ہمارے لئے سیاسی چیلنج بن کر اٹھی ہے، وہ اس بات سے بے خبر ہے کہ مغرب دراصل کچھ جدید قوتوں کی دریافت کا نام ہے اور یہ قوتیں اسلام کے لئے عین مفید ہیں بلکہ بالواسطہ طور پر خود اسلامی انقلاب کی پیدا کردہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسلم تحریکیں نئے امکانات سے فائدہ نہ اٹھا سکیں، وہ جدید قوموں کے مقابلہ میں صرف ایک منفی رد عمل ادا کر کے رہ گئیں۔ اس صورت حال کا مزید نقصان یہ ہوا کہ دوسری قوموں سے ہمارا صحیح اسلامی رشتہ قائم نہ ہو سکا۔ مسلمان کے لئے دوسری قومیں مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مگر مذکورہ منفی نفسیات کا یہ نتیجہ ہوا کہ ہم نے ان قوموں کو مدعو نہ سمجھا، ان کو صرف حریف کی نظر سے دیکھا۔ اسلامی تحریکیں پیغام آخرت کی تحریکیں نہ رہیں بلکہ پیغام سیاست کی تحریکیں بن گئیں۔ ان تحریکوں نے انداز کے فرق کے ساتھ ، جدید دنیا کو جس "اسلام" سے واقف کرایا وہ محض ایک قسم کا قومی اسلام تھا نہ کہ خدا کا وہ دین جو انسانوں کو آخرت کی ابدی کامیابی کا راستہ دکھانے کے لئے آیا ہے۔ داعی اور مدعو کا تعلق حریف اور مد مقابل کا تعلق بن کر رہ گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1981 All issues

Printed page