Al-Risala · February 1981 · page 42

مادہ کو بدلنا آسان، انسان کو بدلنا مشکل

الرسالہ، فروری ۱۹۸۱، صفحہ ۴۲

مادہ کو بدلنا آسان، انسان کو بدلنا مشکل

پہلی جنگِ عظیم کے بعد دنیا میں جو تباہی آئی، اس نے مختلف ملکوں کے مدیرین کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کوئی ایسی عالمی تنظیم ہو جو بین الالاقوامی امن قائم کرنے کی ضامن ہو سکے۔ چنانچہ ۱۹۲۰ء میں جمعیت اقوام بنائی گئی جس کا صدر دفتر جنیوا میں تھا۔ مگر ۲۰ سال کے بعد جب وہ دوسری جنگِ عظیم کو روکنے میں ناکام ثابت ہوئی تو اس جنگ کے ساتھ ہی اس کا خاتمہ ہو گیا۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد بین الاقوامی امن کے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ایک اور وسیع تر تنظیم کا منصوبہ بنایا گیا۔ جون ۱۹۴۵ء میں ادھر اتحادی طاقتیں جرمنی اور جاپان کو شکست دے رہی تھیں، ادھر سان فرانسسکو میں ۵۰ قوموں کے نمائندے اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کر رہے تھے۔ یہ اقوام متحدہ بالآخر تمام دنیا کی قوموں کی انتہائی نمائندہ عالمی انجمن بن گئی۔

اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق قوموں نے یہ عہد کیا کہ آنے والی نسلوں کو جنگ کے عذاب سے بچائیں اور بین اقوامی امن و سلامتی کے لئے مسلسل جدوجہد کریں مگر نیو یارک میں اٹھارہ ایکڑ کے رقبہ میں قائم شدہ اقوام متحدہ بھی اپنے اصل مقصد میں اسی طرح ناکام ہے جس طرح اس سے پہلے جمعیت اقوام ناکام رہی تھی، وہ نہ دنیا میں امن قائم کر سکی اور نہ اسباب جنگ کو روکنے میں اسے کوئی کامیابی حاصل ہوئی۔ اقوام متحدہ کے زمین دوز گیراج میں بیک وقت تین ہزار موٹر گاڑیاں کھڑی ہو سکتی ہیں مگر وسیع زمین پر تین سو قوموں کو پرامن طور پر رہنے کے لئے اقوام متحدہ آمادہ نہیں کر سکتا۔ اس کے صدر دفتر میں سورج کی چمک اور حرارت کو اعتدال پر رکھنے کے لئے ایسے آلات لگائے گئے ہیں کہ مختلف ملکوں کے لوگ اپنی قوت برداشت کے مطابق اپنے کمرہ کی حرارت بارہ درجہ کے اندر جب چاہیں تبدیل کرلیں۔ مگر زمین پر طاقت ور قوم اور کمزور قوم کے درمیان متوازن تعلقات قائم کرنے میں اس کو کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ اس کے سیکرٹریٹ کی عمارت میں بجلی کے ایسے آلات لگے ہوئے ہیں جو ایک مرکزی کمرہ سے کاغذات اور ڈاک کا سامان ہم منزلہ عمارت کے بقیہ حصوں میں آناً فاناً پہنچا دیں۔ مگر اقوام متحدہ کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ طاقت اور دولت کی تقسیم اس طرح کرے کہ جس کا جو حق ہے وہ اس کو منصفانہ طور پر پہنچ جائے۔ اس کی جنرل اسمبلی میں تقریروں کے سننے کے لئے ایسا انتظام کیا گیا ہے کہ ایک ہی تقریر کو مختلف ملکوں کے نمائندے اپنے کانوں پر مطلوبہ آلہ سماعت لگا کر بیک وقت انگریزی، فرانسیسی، ہسپانوی، روسی، چینی اور عربی زبانوں میں سن سکیں۔ مگر مظلوم کی آواز سننے کے لئے ظالم کے کان بہرے ہیں اور اقوام متحدہ اس کے لئے کچھ نہیں کر سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1981 All issues

Printed page