مادہ کو بدلنا آسان، انسان کو بدلنا مشکل
الرسالہ، فروری ۱۹۸۱، صفحہ ۴۳
مذکورہ انتظامات کرنے کے لئے صرف ”مادہ“ کو بدلنے کی ضرورت تھی، اور اقوام متحدہ نے اس کا انتظام کر لیا۔ مگر امن وانصاف کے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ”انسان“ کو بدلنے کی ضرورت ہے، اور اس کا نسخہ کسی اقوام متحدہ کے پاس نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اقوام متحدہ اب محض فولاد اور شیشے کی اس سربفلک عمارت کا نام رہ گیا ہے جو نیو یارک میں قائم ہے، جس میں مختلف قسم کی عالمی محفلوں کی نمائش ہوتی رہتی ہے۔ جس کا کام صرف کاغذی کارروائی کرنا اور رپورٹیں چھاپنا ہے۔ اقوام متحدہ کے اس طرح بے جان ہونے کی وجہ وہ قوم پرستانہ نظریہ ہے جو آج ساری دنیا پر سب سے زیادہ چھایا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ آج کی دنیا کو کوئی عالمی نظریہ نہیں دیتا۔ وہ قوم پرستی کے محدود نظریہ کی کوئی اصلاح نہیں کرتا۔ وہ اس کو جوں کا توں باقی رکھ کر محض اوپر سے ایک اجتماعی نظم قائم کر دینا چاہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کی ادھوری کارروائی سے عالمی انسانی اجتماعیت قائم نہیں ہوسکتی۔
سو سال پہلے ایک ملک کا آدمی کسی بھی دوسرے ملک میں جاکر آباد ہو سکتا تھا مگر آج ایک ملک کا شہری دوسرے ملک کے لئے مجرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسا کیوں ہے ؟ وہ کیا چیز ہے جس نے دو ملکوں کے درمیان اجنبیت کی یہ دیوار کھڑی کر دی ہے۔ یہ در اصل قوم پرستی کا جذبہ ہے جس میں آج تمام قومیں مبتلا ہیں۔ ہر قوم دوسری قوم کی دشمن ہو رہی ہے اور ہر ملک دوسرے ملک کو اپنا حریف سمجھتا ہے۔ بڑے بڑے لیڈر اپنے سیاسی اغراض کے لئے مشرق سے مغرب تک دورے کر رہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ آج اس سے بڑا کوئی جرم نہیں ہے کہ ایک ملک کا باشندہ کسی اجنبی ملک میں پایا جائے یا ایک قوم کا فرد کسی معاملہ میں باہر کی کسی قوم کا طرف دار ہو۔ اقوام متحدہ اس مزاج کی کوئی اصلاح نہیں کرتا۔ وہ قومی چار دیواریوں کو باقی رکھ کر صرف اتنا انتظام کر دینا کافی سمجھتا ہے کہ مختلف قوموں کے کچھ نمائندے ہوائی جہاز سے اڑ کر نیو یارک میں جمع ہو جائیں اور نشستند و گفتند و برخاستند کا مظاہرہ کر کے اپنے اپنے ملکوں کو واپس چلے جائیں۔ مگر یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ جب تک قوموں کی تشکیل ان نظریات پر ہو رہی ہے جو انھیں خود غرضی کی تعلیم دیتے ہیں۔ جوان کے اندر یہ جذبہ پیدا کرتے ہیں کہ وہ اقتدار مطلق کی حامل ہیں اور ان کے اوپر کوئی دوسری طاقت ایسی نہیں ہے جو ان سے پوچھ گچھ کر سکتی ہو، اور جب تک ان پر قوم پرستی کا یہ نشہ سوار رہتا ہے کہ وہ ایک قوم ہیں جو دوسری قوموں سے الگ ہے، اس وقت تک صحیح معنوں میں کوئی بین الاقوامی تنظیم کسی طرح وجود میں نہیں آسکتی افراد کے درمیان امن قائم کرنے کا معاملہ ہو یا قوموں کے درمیان، دونوں ہی کا راز اللہ کے آگے اپنے آپ کو جھکا دینا ہے۔ جو شخص اپنے بندہ ہونے کی حیثیت کو تسلیم کر کے خدا کے آگے جھک جائے وہی اپنے شرسے دوسروں کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔ خواہ وہ ایک فرد ہو یا کوئی قوم۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1981 All issues