Al-Risala · March 1983 · page 15

منفی جوش

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۱۵

منفی جوش

وکٹر ہیوگو (۱۸۸۵۔ ۱۸۰۲) فرانس کا مشہور ناول نگار ہے۔ اس کے زمانہ میں فرانس نے الجزائر پر قبضہ کر لیا۔ وکٹر ہیوگو ایک بار الجزائر گیا۔ وہ کسی ہوٹل میں تھا کہ وہاں کچھ الجزائری مسلمان آگئے۔ ان مسلمانوں کو فرانسیسی‘‘ کی صورت سے پہلے ہی سے نفرت تھی۔ وہاں اتفاق سے ایک الجزائری مسلمان اور وکٹر ہیوگو کے درمیان کسی بات پر تکرار ہو گئی۔ فوراً دونوں کے درمیان اشتعال پیدا ہو گیا، یہاں تک کہ لڑائی کی نوبت آگئی۔ الجزائری مسلمان طاقت ور تھا۔ اس نے وکٹر ہیوگو کو خوب مارا۔

اس موقع پر وہاں اور بھی کئی الجزائری مسلمان موجود تھے۔ مگر انھوں نے وکٹر ہیوگو کو بچانے کی کوشش نہیں کی۔ ایک ’’فرانسیسی‘‘ کے مارے جانے پر وہ خوش ہوتے اور تالیاں بجاتے رہے۔ آخر میں وکٹر ہیوگو نے کہا۔ اب تو میں اپنے ملک واپس جارہا ہوں۔ مگر جلد ہی ایک ایسا کام کروں گا جو نہ صرف تم سے بلکہ تمھاری نسلوں تک سے اس کا انتقام لیتا رہے۔

اس واقعہ کے چھ مہینے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر وکٹر ہیو گو کی لکھی ہوئی سیرت کی کتاب شائع ہوئی جس کے ایک ایک فقرے میں پیغمبر اسلام کے خلاف زہر بھرا ہوا ہے۔ اس کے بعد پاکستان کے سابق سفیر برائے فرانس مسٹر قدرت اللہ شہاب نے اس کی تردید میں ایک کتاب لکھی اور اس کو اہتمام کے ساتھ شائع کیا۔ مسلمان اس کے لئے بہت جلد تیار ہو جاتے ہیں کہ وہ ’’معاندینِ اسلام‘‘ کو ذلیل کریں اور اُن سے کفر و اسلام کے نام پر لڑائی لڑیں۔ اسی طرح ان میں ایسے لوگوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جو ان کی مخالفانہ تحریروں کا تیز و تند زبان میں جواب دیں۔ مگر ایسے لوگ ان کے درمیان ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتے جو ان ’’معاندینِ اسلام‘‘ کو اسلام کا مدعو سمجھیں اور مثبت انداز میں دل سوزی اور خیر خواہی کے ساتھ ان کو اسلام کی طرف بلائیں۔

اس قسم کی ’’خدمتِ اسلام‘‘ سے اسلام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ البتہ یہ بہت بڑا نقصان ہوتا ہے کہ وہ معتدل فضا ختم ہو جاتی ہے جس میں دوسری قو میں اسلام پر غور و فکر کریں۔ دوسری قومیں جب ہمارے لئے نفرت کا موضوع بن جائیں تو ان کے لئے ہمارا دین محبت کا موضوع کیوں بنے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues

Printed page