عالی ظرفی
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۱۴
اب فوجیوں کی فاتحانہ نفسیات نے ایک نیا مسئلہ پیدا کر دیا۔ سلطان مظفر حلیم کئے فوجی سرداروں نے کہا کہ یہ ملک اب آپ کا ہے۔ کیونکہ اس کو آپ کی فوجوں نے لڑ کر فتح کیا ہے۔ آپ اس کو محمود خلجی کے حوالے نہ کریں بلکہ اس کو اپنی سلطنت میں شامل کرنے کا اعلان کر دیں۔ اس معاملہ میں ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔
سلطان مظفر حلیم کے لئے یہ بہت نازک لمحہ تھا۔ تاہم اس نے جرأت سے کام لیا اور اپنے فوجی سرداروں کے اس مشورہ کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کو یہ بات اپنی بہادری اور غیرت کے خلاف معلوم ہوئی کہ جس ملک کو اس نے سلطان محمود خلجی کے نام پر فتح کیا ہے، اس کو سلطان کے حوالے نہ کرے اور خود اس پر قابض ہو جائے۔ سلطان کی جو شرافت اس کی محرک بنی تھی کہ وہ اپنے دشمن کی مشکل وقت میں مدد کرے، وہی شرافت دوبارہ اس میں مانع ہو گئی کہ وہ دشمن کی کمزوری کا غلط فائدہ اٹھائے اور اس کی چیز کو خود اپنے قبضہ میں لے لے۔ اس کے ایک طرف شرافت تھی اور دوسری طرف ملک۔ اس نے اس سے انکار کر دیا کہ وہ ملک کو پانے کی خاطر اپنی شرافت کو کھو دے۔
تاہم سلطان مظفر حلیم کو اندیشہ تھا کہ اس کی فوج اگر مفتوحہ علاقہ میں ٹھہری رہی تو فتح کے جوش میں وہ کوئی نازک مسئلہ نہ کھڑا کر دے اور موجودہ فضا باقی نہ رہے۔ چنانچہ اس نے فوراً ایک حکم جاری کیا۔ اس حکم میں کہا گیا تھا کہ اس کی فوجوں کا کام اب یہاں ختم ہو چکا ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس کی فوج کا کوئی شخص مزید آگے بڑھ کر مفتوحہ شہر کے اندر نہ داخل ہو۔ تمام کی تمام فوج بلا تاخیر اپنے وطن کی طرف واپس چلی جائے۔
اس حکم پر فوراً عمل ہوا۔ سلطان مظفر حلیم کی فوج اپنے فتح کے ہوئے ملک کو سلطان محمود خلجی کے حوالے کر کے گجرات واپس چلی گئی۔ سلطان مظفر حلیم نے ایک مفتوحہ ملک کو صرف اس لئے چھوڑ دیا کہ وہ اپنی شرافت اور اپنی بہادری کو محفوظ رکھ سکے (ظفر الوا، از آصفی)
کوئی انسان کیا ہے، ہمیشہ غیر معمولی حالات میں معلوم ہوتا ہے اور ان غیر معمولی حالات میں سب سے زیادہ نازک لمحہ وہ ہوتا ہے جب کہ آدمی فاتح اور غالب کی حیثیت میں ہو۔ اپنے کو فتح و غلبہ کے مقام پر پا کر بھی جو شخص شرافت اور انصاف پر قائم رہے وہی وہ انسان ہے جو امتحان میں پورا اترا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues