نشانہ کا فرق
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۱۷
نشانہ کا فرق
شیطان کا طریقہ عداوت آدم ہے اور پیغمبر کا طریقہ عداوت فساد۔ شیطانی عمل کا محرک ضد اور حسد ہوتا ہے۔ اس لئے وہ "شخص" کو اپنی سرگرمیوں کا نشانہ بناتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں پیغمبرانہ عمل کا محرک بڑائی کو دور کرنا ہے۔ اس لئے پیغمبر کا سارا زور برائی کے خلاف ہوتا ہے نہ کہ برائی کرنے والے کے خلاف۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں تحریک شروع کی تو عمر بن الخطاب آپ کے زبردست مخالف بن گئے مگر آپ نے ایسا نہیں کیا کہ عمر بن الخطاب کو شخصی طور پر ختم کرنے کی مہم شروع کردیں۔ اس کے بجائے آپ نے یہ دعا فرمائی کہ خدایا! عمر ابن الخطاب کے ذریعہ اسلام کو طاقت دے۔ اسی طرح مدینہ میں ایک نام نہاد مسلمان عبد اللہ ابن ابی آپ کے خلاف مسلسل سازشیں کرنے لگا۔ مگر آپ نے ایسا کیا اس کے قتل کا منصوبہ بناتے۔ آپ نے مدینہ کا حاکم ہونے کے باوجود اس کو زندہ رہنے دیا یہاں تک کہ وہ اپنی طبعی موت مرا۔ حقیقت یہ ہے کہ تحریکیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جن کا مقصد شعوری یا غیر شعوری طور پر جاہ و مرتبہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ یعنی دوسرے کے مقابلے میں اپنے کو بڑا بنانا۔ اس قسم کی تحریک ہمیشہ کچھ متعین افراد یا گروہوں کو اپنا نشانہ بناتی ہے۔ ایک شخص یا گروہ کو برائی کے مقام تک پہنچنے کے لئے ہمیشہ دوسرا شخص یا گروہ رکاوٹ ہوتا ہے۔ اس لئے حصول جاہ کی تحریکیں ہمیشہ ان لوگوں کے خلاف اٹھتی ہیں جو عملاً جاہ کے مقامات پر قابض ہوں۔
اس کے برعکس معاملہ ان تحریکوں کا ہوتا ہے جو خوف خدا اور فکر آخرت کی بنیاد پر اٹھیں۔ ایسی تحریکوں کی توجہ ہمیشہ اس بات پر ہوتی ہے کہ وہ برائی کرنے والوں کے اندر یہ جذبہ پیدا کریں کہ وہ اپنی برائی کو چھوڑ دیں اور دنیا و آخرت میں خدا کے غضب سے بچ جائیں۔ ایسی تحریک کو لے کر اٹھنے والوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ برائی کو ایک لمحہ کے لئے برداشت نہیں کرسکتے۔ مگر برائی کرنے والے کو ہر وقت گلے لگانے پر تیار رہتے ہیں۔ برائی کے خلاف اپنی ساری طاقت لگا دینے کے باوجود برائی کرنے والے کے لئے ان کے دل میں خیر خواہی ہوتی ہے اور اس کے حق میں ان کی زبان سے ہمیشہ دعائیں نکلتی رہتی ہیں۔ آپ کو اٹھنا ہے تو برائی کے خلاف اٹھئے نہ کہ برائی کرنے والے کے خلاف۔ کیونکہ برائی کے خلاف اٹھنا پیغمبری کی سنت ہے اور برائی کرنے والے کے خلاف اٹھنا شیطان کی سنت۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues