Al-Risala · March 1983 · page 18

موت کا سبق

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۱۸

موت کا سبق

ایک مجرم کو بتایا گیا کہ عدالت اس کے خلاف فیصلہ کر چکی ہے اور کل صبح اس کو پھانسی دے دی جائے گی۔ پھانسی اگر چہ کل کے دن ہونے والی تھی مگر آج ہی اس کا یہ حال ہو گیا اس کو پھانسی دی جا چکی ہو۔ زندگی اس کے لئے بے قیمت ہو گئی۔ اس کا ہنسنا اور بولنا ختم ہو گیا۔ اس کے ہاتھ جو دوسروں کے خلاف اٹھتے تھے، اب اس قابل نہ رہے کہ کسی کے خلاف اٹھیں۔ اس کے پاؤں جو ہر طرف دوڑنے کے لئے آزاد تھے، اب ان میں یہ طاقت بھی نہ رہی کہ وہ کہیں بھاگنے کی کوشش کریں۔

موت بتاتی ہے کہ یہی معاملہ ہر ایک کا ہے۔ ہر آدمی جو آج زندہ نظر آتا ہے، کل کے دن اسے ”پھانسی“ کے تختہ پر لٹکنا ہے۔ مگر ہر آدمی اس سے بے خبر ہے۔ ہر ایک اپنے آج میں گم ہے، کسی کو اپنے کل کا احساس نہیں۔ یہاں ہر آدمی ”مجرم“ ہے مگر بہت کم لوگ ہیں جو اپنے مجرم ہونے کو جانتے ہوں۔

آدمی زمین پر چلتا پھرتا ہے۔ وہ دیکھتا اور سنتا ہے۔ وہ اپنے مال اور اپنے ساتھیوں کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک عجیب واقعہ پیش آتا ہے۔ اس سے پوچھے بغیر اچانک اس کی موت آجاتی ہے۔ اس کے چلتے ہوئے قدم رک جاتے ہیں۔ اس کی دیکھنے والی آنکھیں بے نور ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنی ہر چیز سے جدا ہو کر قبر کی تنہائی میں چلا جاتا ہے۔

موت کا یہ واقعہ آدمی کی حقیقت کو بتا رہا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ آدمی اختیار سے بے اختیاری کی طرف جا رہا ہے۔ وہ اجالے سے اندھیرے کی طرف جا رہا ہے۔ وہ سب کچھ سے بے کچھ کی طرف جا رہا ہے۔ موت سے پہلے وہ اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے جہاں وہ اپنے ارادہ کا آپ مالک ہے۔ موت کے بعد وہ ایک ایسی دنیا میں چلا جاتا ہے جہاں وہ کسی اور کی ماتحتی قبول کرنے پر مجبور ہو گا۔ آدمی اگر اس حقیقت کو یاد رکھے تو اس کی زندگی بالکل بدل جائے۔ کسی پر قابو پا کر اسے ستانا اس کو مضحکہ خیز معلوم ہو۔ کیونکہ جو شخص خود کل دوسرے کے قابو میں جانے والا ہے وہ کسی کو ستا کر کیا پائے گا۔ اپنے کو بڑا سمجھنے پر اسے شرم آئے گی۔ کیونکہ جو بڑائی بالآخر چھن جانےوالی ہو اس کی کیا حقیقت۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues

Printed page