دین کے نام پر بے دینی
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۲۷
اصطلاح میں سمجھنے کی کوشش کرے۔ مگر اس نے اس کو آبائی اور غیر آبائی معیار سے جانچا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حق اور ناحق کے معیار سے دیکھنے میں اپنے آپ کو غلط ماننا پڑتا۔ جب کہ آبائی اور غیر آبائی کی تقسیم میں اپنی روش پر بدستور موجود رہنے کا جواز مل رہا تھا۔
فرعون نے دوسری بات یہ کہی کہ "موسیٰ اور ہارون اس ملک میں اپنی کبریا ئی قائم کرنا چاہتے ہیں" یہ بھی عوام کو بھڑکانے کے لئے محض ایک سیاسی شوشہ تھا، کیونکہ حضرت موسیٰ نے تو اول مرحلہ میں فرعون کے سامنے یہ بات رکھ دی تھی کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ فرعون کو خدا کا پیغام پہنچائیں اور اس کے بعد بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے نکل کر صحرائے سینا میں چلے جائیں۔ ایسی حالت میں یہ الزام سراسر خلاف واقعہ تھا کہ وہ مصر کی حکومت پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُونِي بِكُلِّ سَحِرٍ عَلِيمٍ فَلَمَّا جَاءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُوسَى أَلْقُوا مَا أَنْتُمْ مُلْقُونَ * فَلَمَّا أَلْقَوْا قَالَ مُوسَى مَا جِئْتُمْ بِهِ السِّحْرُ إِنَّ اللَّهَ سَيُبْطِلُهُ إِنَّ اللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ وَيُحِقُّ اللَّهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ اور فرعون نے کہا کہ تمام ماہر جادوگروں کو میرے پاس لے آؤ۔ جب جادو گر آئے تو موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو کچھ تمہیں ڈالنا ہے ڈالو۔ پھر جب جادو گروں نے ڈالا تو موسیٰ نے کہا کہ جو کچھ تم لائے ہو وہ جادو ہے۔ بے شک اللہ اس کو باطل کر دے گا، اللہ یقیناً مفسدوں کے کام کو سدھرنے نہیں دیتا۔ اور اللہ اپنے حکم سے حق کو حق کر دکھاتا ہے خواہ مجرموں کو وہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ ۷۹ - ۸۲ فرعون کا ماہر جادوگروں کو بلانا اس لئے نہ تھا کہ وہ سمجھتا تھا کہ جادو گروں کے ذریعہ وہ حضرت موسیٰ کو زیر کر لےگا۔ یہ کسی عقلی فیصلہ سے زیادہ فرعون کی اس بڑھی ہوئی خواہش کا نتیجہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کو نہ مانے۔ خدا کے پیغمبر کو جادوگروں کے ذریعہ غلط ثابت کرنے کا منصوبہ ایک ایسا منصوبہ تھا جس کا ناکام ہونا پہلے سے معلوم تھا۔ مگر آدمی جب کسی حقیقت کو نہ ماننا چاہے تو اس کی یہ خواہش اس کو یہاں تک لے جاتی ہے کہ وہ احمقانہ تدبیروں سے اس کا مقابلہ کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ وہ سیلاب کے مقابلہ میں تنکوں کا بند باندھتا ہے حالاں کہ وہ خود جان رہا ہوتا ہے کہ سیلاب کے مقابلہ میں تنکوں کی کوئی حقیقت نہیں۔
چنانچہ وہی ہوا جو ہونا تھا۔ جادو گروں نے میدان میں رسیاں اور لکڑیاں پھینکیں جو دیکھنے والوں کو رینگتے ہوئے سانپ کی صورت میں دکھائی دیں۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ بہت بڑا سانپ بن کر
‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues