Al-Risala · March 1983 · page 26

دین کے نام پر بے دینی

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۲۶

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ مُوْسٰى وَهٰرُونَ إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَإِهِ بِآيَاتِنَا فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُجْرِمِينَ فَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا إِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُبِينٌ قَالَ مُوْسَى أَتَقُولُونَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَكُمْ أَسِحْرٌ هٰذَا وَلَا يُفْلِحُ الساحرون قَالُوا أَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا وَتَكُونَ لَكُمَا الْكِبْرِيَاءُ فِي الْأَرْضِ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِينَ پھر ہم نے ان کے بعد موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر بھیجا، مگر انھوں نے گھمنڈ کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔ پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے سچی بات پہنچی تو انھوں نے کہا، یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ موسیٰ نے کہا کہ کیا تم حق کو جادو کہتے ہوجب کہ وہ تمھارے پاس آچکا ہے۔ کیا یہ جادو ہے، حالاں کہ جادو والے کبھی فلاح نہیں پاتے۔ انھوں نے کہا کہ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم کو اس راستے سے پھیر دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے، اور اس ملک میں تم دونوں کی بڑائی قائم ہو جائے، اور ہم کبھی تم دونوں کی بات ماننے والے نہیں ہیں فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں نے اپنی مجرمانہ ذہنیت کی بنا پر موسیٰ اور ہارون کی بات نہیں مانی۔ وہ چیزوں کو دلیل کے معیار سے دیکھنے کے بجائے جاہ و اقتدار کے معیار سے دیکھتے تھے۔ اس خود ساختہ معیار کے نام پر انھوں نے اپنے کو اونچا اور موسیٰ و ہارون کو نیچا سمجھ لیا۔ ان کی یہ نفسیات ان کے لئے اس حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بن گئی جو ان کے نزدیک ایک چھوٹا آدمی ان کے سامنے پیش کر رہا تھا۔

حضرت موسیٰ کی استدلال کی زبان جب فرعون کی سمجھ میں نہیں آئی تو آپ نے عصا اور ید بیضا کے معجزات دکھائے۔ ان معجزات کا توڑ فرعون کے پاس نہ تھا۔ چنانچہ اس نے کہا کہ یہ جادو ہے۔ اس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ کے مقابلہ میں اپنی شکست کو ایک جھوٹی توجیہہ میں چھپانے کی کوشش کی۔ اس نے لوگوں کو یہ تاثر دیا کہ موسیٰ کا معاملہ حق کا معاملہ نہیں ہے بلکہ جادو کا معاملہ ہے، یہ صحیح ہے کہ جادو اور معجزہ میں کچھ ظاہری مشابہت ہوتی ہے۔ مگر بہت جلد معلوم ہو جاتا ہے کہ جادو محض شعبدہ اور کرشمہ تھا۔ اس کے مقابلہ میں معجزہ کو مستقل کامیابی حاصل ہوتی ہے، جادو بالآخر جادو ثابت ہوتا ہے اور معجزہ بالآخر معجزہ۔

اس موقع پر فرعون نے لوگوں کو حضرت موسیٰ کی دعوت سے پھیرنے کے لئے دواور باتیں کہیں ۔ ایک یہ کہ موسیٰ ہم کو ہمارے آبائی دین سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں۔ فرعون کو چاہئے تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کے پیغام کو حق اور ناحق کی

‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues

Printed page