Al-Risala · March 1983 · page 29

دین کے نام پر بے دینی

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۲۹

حضرت موسیٰ کا ساتھ دینے والے نوجوانوں کو ایک طرف فرعون کا خطرہ تھا۔ دوسری طرف خود اپنی قوم کے بڑوں کی طرف سے ان کو حوصلہ افزائی نہیں ملی۔ یہ بڑے اگرچہ حضرت موسیٰ کی نبوت کو مانتے تھے۔ مگر اپنی مصلحت اندیشی کی بنا پر وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بیٹے بیٹیاں پر جوش طور پر حضرت موسیٰ کا ساتھ دیں اور اس کے نتیجہ میں وہ فرعون کے ظلم کا شکار بنیں۔

مگر اس قسم کی صورت حال کا تقاضا یہ نہیں ہوتا کہ آدمی مخالفین حق کے ڈر سے خاموش ہو کر بیٹھ جائے۔ اس کو چاہئے کہ وہ انسانی مخالفتوں کے مقابلہ میں خدائی نصرتوں پر نظر رکھے، وہ خدا کے بھروسہ پر اس حق کا ساتھ دینے کے لئے اٹھ کھڑا ہو جس کا ساتھ دینے کے لئے ذاتی طور وہ اپنے آپ کو عاجز پا رہا تھا۔ وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى وَأَخِيهِ أَنْ تبوالقومکما بِمِصْرَ بُيُوتًا وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً و اقیموا الصلوٰۃ و بشر الْمُؤْمِنِينَ )

اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لئے مصر میں کچھ گھر مقرر کرو اور اپنے ان گھروں کو قبلہ بناؤ اور نماز قائم کرو۔ اور اہل ایمان کو خوش خبری دے دو ۸۷ قبلہ کے معنی عربی زبان میں مرجع یا مرکزِ توجہ کے ہیں۔ یہاں گھروں کو قبلہ بنانے سے مراد یہ ہے کہ بنی اسرائیل کی بستیوں میں کچھ گھروں یا ان گھروں کے بعض مناسب حصوں کو اس مقصد کے لئے مخصوص کر دیا جائے کہ وہ حضرت موسیٰ کی دینی جدوجہد کے لئے بطور مرکز کے کام دیں۔ یہاں تنظیمی اجتماعات ہوں، باہمی مشورے ہوں۔ دعوتی عمل کی خاموش منصوبہ بندی کی جائے۔

حضرت موسیٰ کی توحید و آخرت کی باتیں مصر کے بادشاہ فرعون کو سخت ناگوار تھیں۔ اس نے ان کے اوپر نہایت سخت قسم کی پابندیاں عائد کردیں۔ یہاں تک کہ کھلے طور پر دینی سرگرمیاں جاری رکھنا ان کے لئے سخت دشوار ہو گیا۔ اس وقت حکم ہوا کہ فرعون سے ٹکرانے کے بجائے یہ کرو کہ اپنے کام کو قریبی دائرہ میں سمیٹ لو۔ اپنی بستیوں میں چھوٹے چھوٹے دعوتی اور تنظیمی مراکز بنا کر محدود دائرہ میں خاموشی کے ساتھ اپنا کام جاری رکھو۔ ان حالات میں ان کو جو دوسرا حکم دیا گیا وہ نماز کی اقامت تھا۔ یعنی اللہ سے تعلق جوڑنے اور اس سے مدد مانگنے کے لئے نمازوں کا اہتمام، انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی۔ نماز دراصل خدا سے قریب ہو کر خدا سے مدد مانگنے کی ایک صورت ہے۔ نماز میں مشغول ہو کر بندہ اپنے آپ کو عجز اور تواضع کے مقام پر لاتا ہے اور عجز اور تواضع ہی وہ مقام ہے جہاں بندہ اور خدا کی ملاقات ہوتی ہے۔ بندہ کے لئے اپنے رب سے ملنے کا دوسرا کوئی مقام نہیں۔ یہ جو پروگرام بتایا گیا اسی کی تکمیل میں ان کے لئے فلاح اور نجات کا راز چھپا ہوا تھا۔ یہ حکم گویا اس بات کی خوش خبری تھی کہ خدا ان کو اس حالت سے نکالنے والا ہے جس میں ان کے دشمنوں نے ان کو مبتلا کر دیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues

Printed page