جانور سے بدتر
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۳۰
جانور سے بدتر
شیخ سعدی نے کہا تھا ”میں خدا سے ڈرتا ہوں ۔ اور خدا کے بعد اس شخص سے ڈرتا ہوں جو خدا سے نہیں ڈرتا“ اسی بات کو شیکسپیر نے ایک اور انداز سے اس طرح کہا ہے ”انسان ہی ایک ایسا جانور ہے جس سے میں بزدل کی طرح ڈرتا ہوں“ اس دنیا میں ہر چیز قابل پیشین گوئی کردار رکھتی ہے ۔ آگ کے بارے میں آپ پیشگی طور پر یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اگر آپ نے اس کے اندر ہاتھ ڈالا تبھی وہ آپ کو جلائے گی ۔ اگر آپ اپنے ہاتھ کو اس سے دور رکھیں تو وہ ایسا نہیں کرے گی کہ وہ کو کر آپ کے ہاتھ پر آگرے۔ یہی معاملہ تمام چیزوں کا ہے حتی کہ موذی جانوروں کے بارے میں بھی ہم کو پیشگی طور پر معلوم ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر کسی کے اوپر حملہ نہیں کرتے۔ ان کا حملہ ہمیشہ دفاعی ہوتا ہے نہ کہ جارحانہ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز ایک لگے بندھے قاعدہ کے تحت کام کر رہی ہے اور اس قاعدہ کی رعایت کر کے آپ اس کے نقصان سے بچ سکتے ہیں۔ مگر انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے جس کے عمل کا کوئی اصول اور قاعدہ نہیں۔ وہ مکمل طور پر آزاد ہے اور جس وقت جو چاہے کر سکتا ہے۔ اس دنیا میں انسان ہی ایک ایسا جو ہے جو یک طرفہ طور پر دوسرے کے خلاف کارروائی کرتا ہے جو کسی واقعی سبب کے بغیر دوسرے کے اوپر حملہ کرتا ہے۔ انسان کے حرص اور انتقام کی کوئی حد نہیں۔ آپ خاموشی کے ساتھ اپنے کام میں مصروف ہوں اور محض ذاتی محنت کی بنیاد پر ترقی کریں تب بھی آپ محفوظ نہیں۔ کیونکہ دوسروں کے اندر حسد کا جذبہ پیدا ہوگا اور وہ آپ کو گرانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ انسان لامحدود طور پر اپنی خواہشیں پوری کرنا چاہتا ہے اور بے حساب حد تک دوسرے کو برباد کر کے اس کی بربادی کا تماشا دیکھنا چاہتا ہے۔
کوئی بدترین موذی جانور بھی اس کو نہیں جانتا کہ وہ کسی کو ذلیل کرنے کا منصوبہ بنائے۔ وہ کسی کو نیچا دکھا کر اپنے غرور کے لئے تسکین کا سامان فراہم کرے، کسی کو خواہ مخواه مصیبتوں میں پھنسا کر اس کی پریشانی کا تماشا دیکھے۔ یہ صرف انسان ہے جو ایسا کرتا ہے۔ خدا نے انسان کو احسن تقویم کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ مگر انسان اپنی نادانی سے اپنے آپ کو اسفل سافلین کی پستی میں گرا لیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues