Al-Risala · March 1983 · page 33

کچھ چھوڑنا پڑتا ہے

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۳۳

کچھ چھوڑنا پڑتا ہے

دہلی میں میں اجمیری گیٹ کی سڑک سے گزر رہا تھا۔ ایک خوانچہ فروش عورت کی آواز میرے کان میں آئی: ”ایک ہزار کی ساڑی پہنوں گی تو بچے نہیں پال سکتی ہوں “ اس کے ساتھ بیٹھنے والے خوانچہ فروش نے اس کی معمولی ساڑی پر اعتراض کیا تھا۔ اس کے جواب میں عورت نے کہا کہ خریدنے کے لئے میں بھی اچھی ساڑی خرید سکتی ہوں ۔ مگر اس کی قیمت مجھے یہ دینی پڑے گی کہ اپنے بچوں کی پرورش اور تعلیم میں خرچ کرنے کے لئے اس کے بعد میرے پاس کچھ نہ رہے گا۔

یہ زندگی کی سادہ سی حقیقت ہے۔ ہر آدمی جانتا ہے کہ زیادہ اہم چیزوں میں اپنا بھر پور حصہ ادا کرنے کے لئے اس کو کم اہم چیزوں میں ”صبر کا اصول اختیار کرنا پڑتا ہے۔ کچھ چیزوں میں اسے ”کم پر راضی ہونا پڑتا ہے تاکہ بعض دوسری چیزوں میں وہ ”زیادہ “کا مالک بن سکے ۔

اس اصول کا تعلق ہر ایک سے ہے ، خواہ وہ غریب ہو یا امیر۔ غریب کو اس اصول پر چلنے کے لئے اگر اپنی ضروریات میں کمی کرنی پڑتی ہے تو امیر سے اس کا یہ تقاضا ہوتا ہے کہ وہ اپنی عیش اور تفریح کی چیزوں میں کمی کر دے۔ اہم کی خاطر غیر اہم کی قربانی ہر ایک کو دیتی ہے ۔ اس میں ایک شخص یا دوسرے شخص کے درمیان کوئی تفریق نہیں۔

مگر اس اصول کو لوگ صرف اپنے گھر اور اپنے بچوں کے بارے میں جانتے ہیں خدا کے دین کے بارے میں وہ اس اہم اصول کو بالکل بھولے ہوئے ہیں۔ اس معاملہ میں ہر آدمی کا وہی حال ہو رہا ہے جو بائبل میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے —— خدا کا گھر ویران ہے ، کیونکہ تم میں سے ہر ایک اپنے گھر کو دوڑا چلا جاتا ہے (حجی، باب اول)

لوگ اپنے گھر کے امور کو کم اہم اور زیادہ اہم کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ جو کم اہم ہے اس کو چھوڑ کر جو زیادہ اہم ہے اس کو اختیار کر لیتے ہیں۔ مگر دین وملت کے معاملہ میں ان کے یہاں اہم اور غیر اہم کی کوئی تقسیم نہیں۔ یہاں وہ بس اپنے ذوق پر چلنا چاہتے ہیں، خواہ اس کا مطلب یہی کیوں نہ ہو کہ آدمی اہم کو چھوڑ کر غیر اہم دائرہ میں دوڑنا شروع کر دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues

Printed page