Al-Risala · March 1983 · page 32

سبب اپنے اندر

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۳۲

سبب اپنے اندر

نئی دہلی میں پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں یہ قصہ سنا گیا کہ صدر جمہوریہ ہند مسٹر گیانی ذیل سنگھ اپنے آپریشن کے لئے امریکہ گئے۔ وہاں وہ ٹیکساس کے اسپتال میں تھے جس میں ان کے پیش رو سنجیواریڈی بھی زیر علاج رہ چکے تھے۔ جب وہ آپریشن تھیٹر میں لے جائے گئے تو چیف سرجن نے موصوف سے پوچھا: کیا آپ تیار ہیں (Are you ready) گیانی ذیل سنگھ نے اس کے جواب میں کہا:

No, I am not Reddy. I am Zail Singh

میں ریڈی نہیں ہوں۔ میں ذیل سنگھ ہوں (ہندوستان ٹائمس ۴ دسمبر ۱۹۸۲)

عین ممکن ہے کہ یہ کوئی واقعہ نہ ہو بلکہ محض ایک لطیفہ ہو۔ مگر سوال یہ ہے کہ کسی شخص کو ایسا لطیفہ بنانے کی جرات کیسے ہوئی۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ گیانی ذیل سنگھ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ انگریزی زبان کم جانتے ہیں۔ ٹیکساس کے آپریشن میں پر اگر رادھا کرشنن یا جواہر لال نہرو ہوتے تو کسی لطیفہ گو کو ایسا لطیفہ گھڑنے کی جرات نہ ہوتی۔

باہر کی دنیا آپ کو اتنا ہی جانتی ہے جتنا آپ نے اس کو بتایا ہے اور آپ کی جو تصویر اس کے ذہن میں ہے اسی کے مطابق وہ آپ کے ساتھ سلوک کرتی ہے۔ اگر دوسروں سے آپ کو برے سلوک کا تجربہ ہو تو دوسروں کو برا سمجھنے کے بجائے خود اپنے اندر اس کے اسباب تلاش کیجئے۔ کیونکہ اپنی کمی کو دور کر کے آپ زیادہ بہتر طور پر دوسروں کے برے سلوک سے بچ سکتے ہیں۔

یونان کے ایک آرٹسٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے ایک آدمی کی تصویر بنائی جس کے ہاتھ میں انگور کا خوشہ تھا۔ اس نے تصویر کو بازار میں رکھ دیا۔ اس کے دوست نے اس کے بعد اسے مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ تم نے انگور کی تصویر اتنی کامیاب بنائی ہے کہ چڑیاں اس کو واقعی سمجھ کر اس پر چونچ مارتی ہیں۔ آرٹسٹ نے کہا: آدمی کی تصویر بنانے میں مجھ سے غلطی ہوگئی۔ ورنہ چڑیاں اس قسم کی جرات ہی نہ کرتیں۔ اب آرٹسٹ نے دوسری تصویر بنائی۔ اس تصویر میں بھی ایک آدمی انگور کا خوشہ لئے ہوئے تھا۔ انگور کا خوشہ دوبارہ اس قدر مطابق فطرت تھا کہ چڑیاں اس کو دیکھ کر اس کے پاس آئیں۔ مگر اب انھیں چونچ مارنے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔ کیونکہ جو آدمی انگور کا خوشہ لئے ہوئے تھا اس کی آنکھیں اس قدر غضب ناک تھیں کہ ان کو دیکھتے ہی چڑیاں واپس لوٹ جاتیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues

Printed page