نصیحت کے آداب
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۳۵
نصیحت کے آداب
نصیحت ایک حکیمانہ قول ہے۔ وہ اس لئے ہوتی ہے کہ آدمی اس کو پکڑ لے۔ اور اپنی زندگی میں ہمیشہ اس کو برتتا رہے۔ اسی لئے نصیحت کا یاد رہنا ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی نصیحت اسی وقت نصیحت ہے جب کہ وہ سننے والے کو یاد رہ جائے۔ جو نصیحت ایسی ہو کہ وہ آدمی کو یاد نہ رہے، عملاً سننے والے کے لئے اس کا کوئی فائدہ نہیں۔
نصیحت کو یاد رکھنا یا اس کا یاد رہنا دو طرفہ معاملہ ہے۔ ایک طرف وہ اس پر موقوف ہے کہ سننے والا اس کو دھیان کے ساتھ سنے۔ دوسری طرف سنانے والے سے بھی اس کا گہرا تعلق ہے۔ سنانے والے کو اپنی نصیحت ایسے انداز میں کہنی چاہئے کہ وہ سننے والے کے دل میں اتر جائے اور اس کا ذہن با آسانی اس کو محفوظ کرسکے۔ نصیحت کو عمدہ انداز میں کہنا گو با سننے والے کو یاد رکھنے میں مدد دینا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے مذکر (ناصح) تھے۔ چنانچہ یہ حکمتِ کلام آپ کی حدیثوں میں کمال درجہ میں پائی جاتی ہے۔ نصیحت کو ذہن نشین کرانے کے لئے آپ مختلف قسم کا اہتمام فرماتے اور مختلف اسلوب اختیار کرتے۔
آپ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ ہمیشہ مختصر الفاظ میں بولتے۔ ٹھہر ٹھہر کر اپنے الفاظ ادا کرتے۔ حضرت عائشہ نے بعد کے لوگوں سے ایک بار فرمایا:
ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم لم يكن يسرد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرح تیز باتیں نہیں الحديث كسككم كان يحدث حديثاً لو عدة کرتے تھے۔ آپ اس طرح بات کرتے تھے کہ اگر گننے والا العاد لاحصاه (متفق عليه) گنے تو اس کو گن لے۔
اسی مقصد سے کبھی آپ سوال و جواب کا انداز اختیار کرتے۔ کبھی رواجی اسلوب سے ہٹ کر کسی انوکھے اور چونکا دینے والے اسلوب میں اپنی بات ارشاد فرماتے ۔ کبھی اپنے کلام کو ایک سے زیادہ بار فرماتے۔ کبھی سننے والے سے کہتے کہ میرے کہے ہوئے کو دہراؤتاکہ میں دیکھوں کہ تم نے میرے الفاظ کو کس طرح پکڑا ہے۔ پھر اسی حکمت کا نتیجہ ہے کہ آپ نے ایک بات کسی شخص سے ایک انداز میں فرمائی اور وہی بات کسی دوسرے شخص سے دوسرے انداز میں۔ انھیں حکیمانہ طریقوں میں سے ایک طریقہ یہ تھا کہ آپ اپنی بات کو گنتی کی صورت میں بیان فرماتے ۔ "دو باتیں آدمی کے لئے ضمانت ہیں“، ”تین باتیں جس کے اندر ہوں“، ”چار باتیں یاد رکھو۔ پانچ باتیں بنیادی ہیں۔ “ حدیثوں
‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues