ے، اس کے سُوں کو سامنے رکھ کر
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۳۶
ے، اس کے سُوں کو سامنے رکھ کر
روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انما الامور ثلاثة - امرتبين لك رشدة فاتبعة - و امرتبين لك زيغه فاجتنبه - و امر اختلف فيه فکلہ الى عالمه معاملَات تین طرح پر ہیں۔ وہ معاملہ جس کی صحت تم پر واضح ہو اس کی پیروی کرو۔ اور وہ معاملہ جس کی کجی تم پر واضح ہو اس سے بچو۔ اور وہ معاملہ جس میں اختلاف پڑ جائے اُس کو کسی جاننے والے کے سپرد کر دو۔ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اصلاح کی بات کہنی تھی ۔ اس کو آپ نے "تین کلمات میں تقسیم کر کے فرمایا تاکہ سننے والے کو وہ فوراً یاد ہو جائے اور وہ اس کے ذہن کا جزو بن سکے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی امت نے بھی اس حکیمانہ طریقہ کی پیروی کی ۔ امت کے رہنما اور واعظین مسلسل اسی اندازِ کلام میں لوگوں کو نصیحتیں کرتے رہے ۔ وہ جب کسی سے نصیحت کا کوئی کلمہ کہتے تو ایسے اسلوب میں کہتے کہ لوگ اس کو پکڑ لیں اور اپنے دماغ میں اس کو محفوظ رکھیں ۔ یہاں نمونہ کے طور پر یحییٰ بن معاذ الرازی کے دواقوال نقل کئے جاتے ہیں :
طوبى لمن ترك الدنيا قبل ان تترکہ و بنى قبره قبل ان يدخله وارضى ربه قبل ان يلقاه ترك الدنيا كلها اخذها كلها ۔ فمن تركها كلها اخذها كلها ومن اخذ هاكلها تركها كلها فأخذها في تركها وتركها في اخذها مبارک ہے وہ جس نے دنیا کو چھوڑ دیا اس سے پہلے کہ دنیا اسے چھوڑے۔ جس نے اپنی قبر بنالی اس سے پہلے کہ وہ اس میں داخل ہو۔ جس نے اپنے رب کو راضی کر لیا اس سے پہلے کہ وہ اس سے ملے۔
دنیا کو پورا چھوڑنا دنیا کو پورا پکڑنا ہے۔ پس جس نے پورے کو چھوڑا اس نے پورے کو پکڑ لیا اور جس نے پورے کو لیا اس نے پورے کو چھوڑ دیا۔ پس دنیا کو لینا اس کے چھوڑنے میں ہے اور دنیا کو چھوڑنا اس کے لینے میں ہے۔ نصیحت کا کلمہ خیر خواہی کا کلمہ ہے۔ سچی نصیحت اصلاح کی تڑپ کے تحت نکلتی ہے۔ ایسا آدمی فطری طور پر یہ چاہتا ہے کہ وہ بات کو ایسے انداز سے کہے کہ وہ سننے والے کے دل میں اتر جائے۔ وہ سننے والے کے ذہن میں مستقل طور پر محفوظ ہو جائے۔ وہ اس کو اصولِ زندگی کے طور پر ہمیشہ کے لیے یاد رکھے۔ یہ جذبہ کہنے والے کو مجبور کرتا ہے کہ وہ مخاطب کی پوری رعایت کرے۔ وہ اپنے الفاظ اور اپنے کلام کو زیادہ سے زیادہ پر حکمت بنائے۔ مخاطب کے ساتھ یہی خیر خواہی اور رعایت ہے جو نبی اور اس کے سچے متبعین کے یہاں مندرجہ بالا قسم کے ناصحانہ کلام میں ڈھل جاتی ہے۔ چاہتاہے، وہ کچہ نہیں ہے۔ اس سے پتہ لگتاہے کہ وہ ہربات میں دوغلا پن رکھتاسے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues