اللہ کی یاد تمام اعمال کا خلاصہ ہے
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۴۰
برعکس اگر وہ اللہ کے دین کے داعی بن کر ’’مالٹا‘‘ آتے تو شاید آج اس علاقہ کی تاریخ بالکل دوسری ہوتی۔ ایسی حالت میں ان کا آنا بھی کامیابی کا آنا ہوتا اور جانا بھی کامیابی کا جانا۔
پیرس سے ہم کو جہاز بدلنا تھا۔ اس کی وجہ سے چند گھنٹے پیرس میں گزرے۔ دہلی کی پرہجوم آبادی کے مقابلہ میں پیرس ایک سونا شہر معلوم ہوتا ہے۔ تاہم وہ یورپ کا قدیم ترین ترقی یافتہ شہر ہے۔ ہم کو افریقہ کے ایک ملک سے افریقہ کے دوسرے ملک میں جانا تھا۔ مگر اس کے لئے ہم کو یورپ کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ اس وقت ہمارا پیرس اترنا اس بات کی علامت تھا کہ آج کسی مسلمان کو ’’لیبیا‘‘ سے ’’روانڈا‘‘ جانا ہو تو اس کے لئے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ اپنے لئے کوئی ’’پیرس‘‘ تلاش کرے۔ کیگالی سے ہم نے دہلی ٹیلی فون کیا تو اس کا رابطہ بھی پیرس سے قائم ہوا ۔
یہ ہماری آج کی صورت حال ہے۔ مگر کسی زمانہ میں پیرس اس بات کی علامت تھا کہ اسلام کے علم برداروں کی پیش قدمی جو مکہ سے شروع ہوئی وہ خشکی اور تری کو پار کرتی ہوئی یورپ کے مرکزی شہر پیرس تک پہنچ چکی ہے۔ آج بھی پیرس کی بعض قدیم عمارتوں میں عربی کتبات موجود ہیں جو گزرے ہوئے عہد کی یاد دلاتے ہیں۔
۳ اگست کو ہم کیگالی (روانڈا) پہنچے۔ روانڈا وسط افریقہ میں خط استوا پر واقع ہے۔ اس کے ایک طرف یوگنڈا، دوسری طرف تنزانیہ اور تیسری طرف فرانس ہے۔ اس کا رقبہ ۲۶ ہزار مربع کلومیٹر اور آبادی دو ملین (۲۰ لاکھ) ہے۔ اس کا دارالسلطنت کیگالی ہے۔ پورا ملک سرسبز پہاڑیوں سے بھرا ہوا ہے۔ مٹی نہایت زرخیز ہے۔ مختلف فصلیں آبپاشی کے بغیر پیدا ہوتی ہیں۔
میرا قیام اصلا کیگالی میں رہا۔ تاہم مجھے ایک طرف یوگنڈا تک جانے کا موقع ملا جہاں سرحد کے دونوں طرف کثرت سے چائے کے ہرے بھرے فارم پھیلے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف ہم بحیرہ مہازی( (Muhazi) تک گئے جو تقریباً سو میل لمبا ہے اور روانڈا اور زائر کو ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے۔ شہر کے علاوہ یہاں کی دیہاتی زندگی کو بھی تفصیل سے دیکھنے کا موقع ملا۔
عیدی امین (سابق صدر یوگنڈا) کی تصویر ہمارے یہاں بہت خراب ہے۔ مگر یوگنڈا کے لوگوں نے مجھے بتایا کہ وہ ذاتی طور پر بہت اچھا آدمی تھا۔ وہ اسلام دوست تھا اور اس نے ایسی پالیسی اختیار کی کہ اس کے زمانہ میں یوگنڈا میں اسلام تیزی سے پھیلنے لگا۔ اس کی وجہ سے کلیسا اس کو بے حد ناپسند کرتا تھا۔ غیر ملکیوں کو یوگنڈا سے نکالنے میں عیدی امین نے جو سخت انداز اختیار کیا اس کی وجہ سے اس کے مخالفین کو موقع مل گیا کہ اس کو دنیا کے سامنے وحشی انسان کے روپ میں پیش کریں، حتیٰ کہ اس کو ملک سے نکال باہر کریں۔ ــــ اس سے اندازہ ہوتا ہے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues