اللہ کی یاد تمام اعمال کا خلاصہ ہے
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۴۲
یہاں مرکز کا اسٹاف کافی وسیع ہے۔ مگر ان میں کوئی اردو جاننے والا نہیں۔ روانڈا کی سرکاری زبان فرانسیسی ہے۔ چنانچہ شرکاء کی اکثریت فرانسیسی زبان جاننے والوں پر مشتمل تھی۔ میں نے اپنا لکچر اس طرح تیار کیا کہ اولاً میں نے اپنی ہندوستانی عربی میں لکچر کو املاء کرایا اس کے بعد مرکز کے ڈائرکٹر جناب محمد سلیمان القائد، جو میری عربی کتابیں پڑھے ہوئے ہیں، انھوں نے میری عربی کو عربوں کی زبان میں لکھا۔ اس کے بعد اس عربی لکچر سے جناب سالم جابی (غینیا) نے اس کو فرانسیسی زبان میں منتقل کیا۔
لکچر کی صورت یہ ہوئی کہ اولاً میں نے عربی زبان میں ابتدائی کلمات کہے جس کا فوری طور پر سالم جابی نے فرانسیسی زبان میں ترجمہ کیا۔ اس کے بعد جناب ادریس لمجی (روانڈا) نے میرا لکچر فرانسیسی میں پڑھ کر سنایا۔ لکچر کے بعد سائیکلو اسٹائل پر تیار کی ہوئی اس کی عربی اور فرانسیسی کاپیاں لوگوں کے درمیان تقسیم کی گئیں۔ جلد ہی انشاء اللہ کیگالی کے اسلامی مرکز کی طرف سے دونوں زبانوں میں اس لکچر کو کتاب کی صورت میں شائع کیا جائے گا۔ طرابلس کا مقالہ (القرآن في مواجهة التحديات العصرية) اور کیگالی کا لکچر (دور الاسلام في التاريخ العالمي) دونوں اصلاً عربی زبان میں لکھے گئے۔ اس لئے فی الحال ان کا اردو نسخہ الرسالہ میں اشاعت کے لئے ہمارے پاس موجود نہیں۔ اسلامی مرکز (کیگالی) کا دعوتی کام اب تک زیادہ تر عوام میں ہو رہا ہے۔ مرکز کے ڈائرکٹر نے کہا: آپ کا یہ لکچر انشاءاللہ مرکز کے لئے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ اولاً ہم اس لکچر کو فرانسیسی اور عربی اور مقامی زبان (کینیا روانڈا) میں شائع کریں گے اور اس کے بعد آپ کی دوسری چھوٹی کتابیں بھی فرانسیسی میں اور عربی میں شائع کریں گے۔ اس طرح انشاء اللہ یہاں کے تعلیم یافتہ طبقہ مثقفین) میں بھی ہمارا دعوتی کام شروع ہو جائے گا۔ اس سفر میں ایک اخوانی قائد سے ملاقات ہوئی ۔ وہ ایک عرب ملک سے تعلق رکھتے تھے اور میری عربی کتابیں پڑھے ہوئے تھے۔ انھوں نے میرے اس نقطۂ نظر سے اتفاق کیا کہ اسلامی تحریک کا منشا نہ دعوت ہے نہ کہ سیاست۔ ان کے نزدیک الاخوان المسلمون نے سیاسی طریق کار اختیار کر کے غلطی کی ہے۔ تا ہم ان کا اصرار تھا کہ ان کو اخوان المسلمون میں بدستور شامل رہنا چاہئے تا کہ وہ اندر سے اس کی اصلاح کی کوشش کر سکیں۔ میں نے کہا کہ اخوانیوں کا سیاسی طرقی کار کسی اتفاقی غلطی کا نتیجہ نہ تھا۔ وہ ان کے فکر میں اول روز سے شامل تھا، ان کی اٹھان ہی سیاست پر ہوئی تھی۔ اور کسی تحریک کی اٹھان جس فکر پر ہوتی ہے وہ آخر تک اسی پر قائم رہتی ہے، آپ درمیان سے اسے بدل نہیں سکتے۔ تاہم انھوں نے میرے نقطۂ نظر سے اتفاق نہیں کیا۔ بالآخر میں نے انھیں ایک تحریر لکھ کردی اور کہا کہ اس کو پڑھ کر اپنے پاس محفوظ کر لیجئے اور دو سال بعد اس کو دوبارہ کھول کر پڑھئے گا اور پھر دو سالہ تجربات کا جائزہ لے کر مجھے بتائیے گا کہ آپ کا خیال درست تھا یا میرا خیال۔ یہ تحریر میری ہندوستانی عربی میں حسب ذیل تھی:
‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues