Al-Risala · March 1983 · page 45

اتحاد کب قائم ہوتا ہے

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۴۵

اتحاد کب قائم ہوتا ہے

سرایچ ۔ اے ۔ آرگب (۱۸۷۱ء ۔ ۱۹۴۵ء) مشہور مستشرق ہیں۔ وہ انگریزی کے علاوہ عبرانی ، عربی آرامی وغیرہ زبانیں جانتے تھے۔ انھوں نے اسلام اور اسلامی تاریخ کو پڑھنے میں اپنی ساری عمر صرف کر دی۔ پختہ عیسائی ہونے کے باوجود انھیں سلطان صلاح الدین ایوبی سے خاص دل چسپی تھی۔ انھوں نے سلطان کے پانچ معاصر مصنفین کی تحریروں کا گہرا مطالعہ کیا تھا ــــــــــ ابن ابی طی ، ابن الاثیر ، قاضی بہار الدین ابن شداد ، عماد الدین ، القاضی الفاضل ۔

پروفیسر گب نے سلطان صلاح الدین ایوبی سے متعلق مراجع کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد لکھا ہے کہ اسلام کی تاریخ میں صدیوں کے بعد یہ منظر دکھائی دیا کہ ایک مسلم حکمراں مسلسل تین سال تک جنگ کے میدان میں اپنی فوجوں کے ساتھ رہ کر ایک مستعد دشمن کا مقابلہ کرتا رہا۔ سلطان صلاح الدین اگرچہ کوئی بہت بڑے جنگی ماہر یا کوئی خاص تجربہ کار حکمراں نہ تھے۔ اس کے باوجود ان کی غیر معمولی کامیابی کا راز ان کی یہ صلاحیت تھی کہ وہ صلیبی حملہ آوروں کے خلاف اپنی قوم کے مختلف عناصر اور ان کی باہم متصادم سیاسی قوتوں کو ایک محاذ پر یک جا اور متحد کر سکتے تھے۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کی بے غرضی ، ان کی فیاضی ، ان کی سادگی ، ان کی تواضع ، ان کی ایمانداری اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ موافق اور مخالف دونوں ہی ان کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوتے تھے۔ ان کی یہی خصوصیات تھیں جنھوں نے ان کو اس قابل بنایا کہ وہ مسلمانوں کی مختلف قوتوں کو ساتھ لے کر دشمن کا متحدہ مقابلہ کریں اور کامیاب ہوں (خلاصه)

Studies on the Civilization of Islam

یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی قوم کی سب سے بڑی طاقت اتحاد ہے اور اتحاد کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ قوم کے ذمہ داروں کے اندر یہ مزاج ہو کہ وہ دوسروں کا اعتراف کرتے ہوں۔ ان کے سینہ میں اتنی کشادگی ہو کہ وہ دوسروں کو ان کا واقعی مقام دے سکیں۔ وہ اپنی ذات کو نمایاں کرنے سے زیادہ اجتماعی مقاصد کو نمایاں کرنے میں دل چسپی رکھتے ہوں ۔

اپنے آپ کو دوسروں کے قریب لے جانے کا نام اتحاد ہے۔ مگر اکثر لوگ دوسروں کو اپنے قریب لانے کا نام اتحاد سمجھ لیتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues

Printed page