Al-Risala · March 1983 · page 44

تاریخ کا انوکھا کارنامہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۴۴

تاریخ کا انوکھا کارنامہ

ایک بزرگ یہ دیکھ کر تڑپ اٹھے کہ ملک جل رہا ہے۔ ملت برباد ہورہی ہے۔ ملک کو بدعنوانوں نے تباہ کر رکھا ہے اور ملت کو امتیازی سلوک نے۔ وہ ملک اور ملت دونوں کو بچانے کے لئے‘ سر سے کفن باندھ کر نکل پڑے۔ انھوں نے طوفانی دورے کئے، پرجوش تقریریں کیں ۔ یہ ہمارا دینی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ جب تک ہم ملک اور ملت دونوں کو بچانہ لیں، ہم چین سے نہ بیٹھیں گے، ہم ہر قسم کی قربانیاں دیں گے۔ ہم ۲۱ فروری ۸۳ء سے ستیہ گرہ کریں گے۔ ہماری تحریک اس وقت تک ختم نہ ہوگی جب تک ملک اور ملت دونوں کے مسائل حل نہ ہو جائیں۔ لوگوں نے اپنی جانیں قربانی کے لئے پیش کیں۔ چندے دینے والوں نے چندے دیے۔ ہر طرف تھیلیوں کی جھنکار سنائی دینے لگی۔ لوگ اُمڈ اُمڈ کر چاروں طرف سے آنے لگے، تاکہ ملک و ملت کو بچا کر یا تو غازی بنیں، یا اسی مقدس مشن میں جان دے کر شہید ہو جائیں۔

مگر عین اس وقت ایک معجزہ ظاہر ہوا۔ ستیہ گرہ کی تحریک شروع بھی نہ ہوئی تھی کہ ملک اور ملت دونوں کے تمام مسائل اچانک حل ہوگئے۔ ۲۲ فروری ۱۹۸۳ء کی صبح کو مذکورہ بزرگ کا اردو اخبار (زیادہ صحیح لفظوں میں جماعتی بلیٹن) چھپ کر آیا تو اس کا صفحہ اول موٹی موٹی سرخیوں سے بھرا ہوا تھا: ملک و ملت بچاؤ تحریک کی عظیم کامیابی حکومت نے ہمارے تمام مطالبات منظور کر لئے ستیہ گرہ کی تحریک کا شاندار التواء عجیب بات ہے کہ ملک و ملت کے بارے میں اتنا بڑا واقعہ ہو گیا مگر خود ملک و ملت کو اس کی خبر بھی نہ ہوسکی۔ ۲۲ فروری کی صبح کو مذکورہ بزرگ کے اپنے لیتھو پر چھپنے والے دو ورقہ اردو اخبار میں جو خبر انتہائی نمایاں سرخیوں میں چھپی ہوئی تھی وہ اس دن کے بڑے بڑے ملکی اخبارات میں کسی گوشہ کے اندر بھی جگہ نہ پاسکی۔ شاید لوگوں کا حسد بزرگ کے کمالات کا اعتراف کرنے میں رکاوٹ بن گیا ہو۔

اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ خود بزرگ کا اپنا اخبار بھی بزرگ کی تاریخ ساز کامیابی کو صحیح طور پر شائع کرنے میں ناکام رہا۔ اپنے صفحہ اول کی رپورٹ میں ایک طرف اس نے لکھا کہ ہمارے نمائندہ خصوصی کی اطلاع کے مطابق حکومت نے ملک وملت بچاؤ تحریک کی تمام شرطوں کو تسلیم کر لیا؛ دوسری طرف اسی اخبار کے اسی صفحہ میں یہ بھی درج تھا کہ وزیرِ اعظم اور تحریک ملک وملت کے لیڈروں کے درمیان سوا دو گھنٹے تک بات چیت ہوتی رہی لیکن کچھ طے نہ ہو سکا“ بزرگ ملک وملت تحریک چلانے میں مصروف ہیں مگر پرانے شہر کے دیواری پوسٹروں نے یہ اطلاع دی ہے کہ کچھ لوگ ایک اور تحریک چلانے کا ارادہ کر رہے ہیں جس کا عنوان ہوگا ملک وملت کو بزرگ سے بچاؤ“

‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues

Printed page