Al-Risala · January 1983 · page 15

حالات کے نتیجہ میں

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۱۵

حالات کے نتیجہ میں

امام مالک سے پوچھا گیا کہ جبری طور پر کسی سے طلاق لی جائے تو طلاق واقع ہوگی یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ جبری طلاق طلاق نہیں ہے۔ یہ خلیفہ منصور کا زمانہ تھا۔ مدینہ میں اس کا گورنر تھا اس نے امام مالک کو ایسا فتویٰ دینے سے روکا۔ مگر امام مالک نہ مانے۔ اس کے بعد گورنر نے حکم دیا کہ امام مالک کو نوڑے مارے جائیں۔ چنانچہ حکم کی تعمیل ہوئی ۔ اور ان کی پیٹھ ننگی کر کے اس پر ۹۰ کوڑے مارے گئے (مرآۃ الجنان) کوڑے کی مار سے اگر چہ امام مالک کی پیٹھ خون آلود ہو گئی تھی۔ لیکن گورنر نے دیکھا کہ اب بھی امام مالک کے اندر کوئی نرمی پیدا نہیں ہوئی ہے۔ اس نے حکم دیا کہ ان کے پاؤں میں زنجیر ڈالی جائے اور چہرہ پر سیاہی لگا کر مدینہ کے راستوں میں گھمایا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور اونٹ پر بٹھا کر ان کو مدینہ کے راستوں میں گھمایا گیا۔ امام مالک کا حال یہ تھا کہ اس وقت بھی وہ کہتے جاتے تھے: جو مجھ کو جانتا ہے وہ جانتا ہے اور جو نہیں جانتا تو میں مالک بن انس ہوں اور یہ کہتا ہوں کہ زبردستی کی طلاق کچھ نہیں ہے (من عرفنی فقد عرفنی ومن لم یعرفنی فانا مالک بن انس، اقول ان طلاق المکره لیس بشیئ)

ایک خالص غیر سیاسی فتوے پر وقت کے سیاسی حاکم نے اتنا شدید رد عمل کیوں ظاہر کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ فتویٰ اگر چہ بذات خود غیر سیاسی تھا۔ مگر وقت کے مخصوص حالات کی وجہ سے اس کے اندر سیاسی اہمیت پیدا ہو گئی تھی۔

اس زمانہ میں عملاً نسلی بادشاہت چل پڑی تھی۔ تاہم اسلام کے اثر سے حکمراں اس کو بھی ضروری سمجھتے تھے کہ وہ لوگوں سے بیعت لیں اور عوام کو یہ تاثر دیں کہ وہ عوامی رائے سے خلیفہ بنے ہیں نہ کہ محض شاہی خاندان سے تعلق کی وجہ سے۔ مگر عوام ان حکمرانوں کو پسند نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ خلفاء جبری طور پر لوگوں سے بیعت لیتے تھے۔ اس پس منظر میں امام مالک کا فتویٰ بہت معنی خیز تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جبری طلاق جس طرح بے اعتبار ہے اسی طرح جبری بیعت بھی بے اعتبار ہے۔ گورنر کو اندیشہ ہوا کہ امام مالک کے فتوے کی وجہ سے خلیفہ کی بیعت لوگوں کی نگاہ میں غیر معتبر نہ ہو جائے۔ اسی لئے اس نے اس کا اتنا سخت نوٹس لیا۔

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح ایک خالص غیر سیاسی مسئلہ بھی مخصوص حالات کے نتیجہ میں سیاسی مسئلہ بن جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں مشرک بادشاہوں کا دعوت توحید کے خلاف شدید رد عمل بھی اسی قسم کے حالات کا نتیجہ تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues

Printed page