Al-Risala · January 1983 · page 14

جب جھٹکا لگتا ہے

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۱۴

جب جھٹکا لگتا ہے

ابتدائی زمانہ کے ترک سلطان بہت سادہ زندگی گزارتے تھے۔ وہ لوگوں کے درمیان ایک عام انسان کی طرح رہتے تھے۔ حتیٰ کہ وہ دربار میں بھی کسی غیر معمولی اہتمام کے بغیر بیٹھتے تھے۔ اس کے بعد ایک چھوٹا سا واقعہ ہوا اور اس نے ترک سلاطین کے انداز کو بالکل بدل دیا۔ سلطان محمد ثانی (۱۴۵۱ - ۱۴۸۱ء) وہ ترک حکمراں ہے جس نے قسطنطنیہ کو فتح کیا اور اس کے بعد سلطان محمد فاتح کے عظیم نام سے مشہور ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار وہ اپنے وزیروں کے ساتھ مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس اثنا میں ایک کسان کوئی فریاد لے کر حاضر ہوا۔ یکساں قسم کے لوگوں کے درمیان وہ سمجھ نہ سکا کہ وہ کس سے مخاطب ہو۔ اس نے کہا:

تم میں سے سلطان کون ہے

سلطان محمد فاتح نے ایک دیہاتی کی زبان سے یہ الفاظ سنے تو وہ اس کو بہت ناگوار گزرے ۔ اس نے محسوس کیا کہ دیہاتی نے بھرے مجمع میں اس کی توہین کر دی۔ وہ اٹھ کر خاموشی سے اپنے محل کے اندر چلا گیا۔ اس کی سادہ مزاجی پر اس کا احساس سلطانی غالب آگیا اور اس کے بعد سے اس نے وزیروں اور درباریوں کی مجلس میں بیٹھنا بند کر دیا۔

سلطان نے اب یہ طریقہ اختیار کیا کہ وہ لوگوں سے الگ ایک دریچہ کے پیچھے بیٹھتا اور وہاں بیٹھ کر اپنے وزیروں کی باتیں یا لوگوں کی درخواستیں سنتا۔ دھیرے دھیرے مزید تبدیلی آئی اور بعد کو یہ اصول بھی باقی نہ رہ سکا۔

سلطان سلیمان اعظم (۱۵۲۰ - ۱۵۶۶ء) کے دور سے ایسا ہوا کہ سلاطین ترکی نے وزیروں کی مجلس میں شرکت بالکل بند کر دی۔ اس کے بعد یہ ہونے لگا کہ وزراء کی مجلس صدر اعظم کے ساتھ بیٹھ کر بحث و مشورہ کرتی اور اس کے بعد وہ فیصلہ تک پہنچتی اس کو صدر اعظم سلطان تک پہنچا دیتا۔ سلطان اس کو سن کر اپنا حکم سنا دیتا جو اس باب میں آخری ہوتا۔

آدمی بظاہر اچھا ہوتا ہے۔ وہ دیکھنے والوں کو ٹھیک معلوم ہوتا ہے۔ مگر یہ صورت حال اسی وقت تک باقی رہتی ہے جب تک کوئی جھٹکا نہ پڑے۔ جب اس کے نفس کو کوئی جھٹکا لگتا ہے تو اس کے بعد وہ بدل کر دوسرا انسان بن جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues

Printed page