Al-Risala · April 1983 · page 10

دریافت کی لذت

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۳، صفحہ ۱۰

دریافت کی لذت

سورج ہماری زمین سے بارہ لاکھ گنا بڑا اور اس سے ساڑھے نو کروڑ میل دور ہے۔ پھر بھی سورج کی روشنی اور حرارت بے پناہ مقدار میں ہم تک پہنچ رہی ہے۔ یہ سورج کائنات کا نسبتاً ایک چھوٹا ستارہ ہے جو قریب ہونے کی وجہ سے ہم کو بڑا دکھائی دیتا ہے۔ اکثر ستارے سورج سے بہت زیادہ بڑے ہیں اور اس سے بہت زیادہ روشن بھی۔ روشنی اور حرارت کی یہ عظیم دنیا ئیں جن کو ستارہ کہا جاتا ہے بے شمار تعداد میں خلا میں پھیلی ہوئی ہیں کھرب ہا کھرب سال سے دہکنے کے باوجود ان کا حرارتی بھنڈار ختم نہیں ہوتا۔

ستاروں میں یہ بے پناہ قوت (Energy) کیسے پیدا ہوتی ہے۔ ہنس بیٹے (Hans Bethe) نے فلکیاتی طبیعیات کے میدان میں لمبی تحقیق کے بعد بتایا کہ اس کا راز کاربن سائیکل (Carbon Cycle) ہے۔ اسی تحقیق پر ۱۹۶۷ء میں موصوف کو طبیعیات کا نوبل انعام دیا گیا۔

ڈاکٹر بیٹے (پیدائش (۱۹۰۶) نے جس دن کاربن سائیکل کی یہ سائنسی دریافت کی، وہ ان کے لئے جوش ومسرت کا ایک ناقابل بیان لمحہ تھا۔ ان کی بیوی روز بیٹے (Rose Bethe) کہتی ہیں کہ رات کا وقت تھا۔ ہم نیو میکسیکو کے صحرا میں تھے۔ صحرائی ماحول میں آسمان کے ستارے عجیب شان کے ساتھ چمک رہے تھے۔ روز بیٹے نے اوپر نگاہ کی اور حیران ہو کر کہا " آکاش کے ستارے کتنا زیادہ چمک رہے ہیں" ڈاکٹر بیٹے نے جواب دیا: کیا تم کو خبر ہے کہ اس وقت تم اس واحد انسان کے عین قریب کھڑی ہو جو یہ جانتا ہے کہ یہ ستارے آخر چمکتے کیوں ہیں ۔

Do you realize, just now you are standing next to the only human who knows why they shine at all. ہنس بیٹے کی دریافت اصل حقیقت کا بے حد جزئی پہلو تھا۔ اس نے ستاروں میں کاربن سائیکل کا عمل دریافت کیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ خود کاربن سائیکل کا عمل ستاروں میں کیوں ہے۔ اس عظیم تہ راز کو مومن خدا کی صورت میں دریافت کرتا ہے۔ ایمان باللہ ایک دریافت (Discovery) ہے جو تمام دریافتوں سے زیادہ بڑی ہے مگر کیسی عجیب بات ہے کہ سائنس داں کو معمولی دریافت ہوتی ہے تو وہ وفور جذبات سے بے قابو ہو جاتا ہے۔ مگر ایمان والے سب سے بڑی چیز۔ خدا کو دریافت کرتے ہیں اور ان کے اندر کوئی جذباتی ابال پیدا نہیں ہوتا۔ شاید خدا پر ایمان کے دعوے داروں نے ابھی تک خدا کو دریافت نہیں کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1983 All issues

Printed page