Al-Risala · April 1983 · page 11

خدا کی موجودگی کا تجربہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۳، صفحہ ۱۱

خدا کی موجودگی کا تجربہ

اپالو ۱۵ میں امریکہ کے جو تین خلا باز چاند پر گئے تھے، ان میں سے ایک کرنل جیمز ارون (James Irwin) تھے۔ انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگست ۱۹۷۲ کا وہ لمحہ میرے لئے بڑا عجیب تھا جب میں نے چاند کی سطح پر قدم رکھا۔ میں نے وہاں خدا کی موجودگی (God's Presence) کو محسوس کیا۔ انھوں نے کہا کہ میری روح پر اس وقت وجدانی کیفیت طاری تھی اور مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے خدا بہت قریب ہو۔ خدا کی عظمت مجھے اپنی آنکھوں سے نظر آرہی تھی۔ چاند کا سفر میرے لئے صرف ایک سائنسی سفر نہیں تھا بلکہ اس سے مجھے روحانی زندگی نصیب ہوئی (ٹریبیون ۲۷ اکتوبر ۱۹۷۲ء)

کرنل جیمز ارون کا یہ تجربہ کوئی انوکھا تجربہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا نے جو کچھ پیدا کیا ہے وہ اتنا حیرت ناک ہے کہ اس کو دیکھ کر آدمی خالق کی صناعیوں میں ڈوب جائے۔ تخلیق کے کمال میں ہر آن خالق کا چہرہ جھلک رہا ہے۔ مگر ہمارے گرد و پیش جو دنیا ہے اس کو ہم بچپن سے دیکھتے دیکھتے عادی ہو جاتے۔ اس سے ہم اتنا مانوس ہو جاتے ہیں کہ اس کے انوکھے پن کا ہم کو احساس نہیں ہوتا۔ ہوا اور پانی اور درخت اور چڑیا غرض جو کچھ بھی ہماری دنیا میں ہے سب کا سب حد درجہ عجیب ہے، ہر چیز اپنے خالق کا آئینہ ہے۔ مگر عادی ہونے کی وجہ سے ہم اس کے عجوبہ پن کو محسوس نہیں کر پاتے ۔ مگر ایک شخص جب اچانک چاند کے اوپر اترا اور پہلی بار وہاں کے تخلیقی منظر کو دیکھا تو وہ اس کے خالق کو محسوس کئے بغیر نہ رہ سکا۔ اس نے تخلیق کے کارنامہ میں اس کے خالق کو موجود پایا۔ ہماری موجودہ دنیا جس میں ہم رہتے ہیں یہاں بھی " خدا کی موجودگی کا تجربہ اسی طرح ہو سکتا ہے جس طرح چاند پر پہنچ کر کرنل ارون کو ہوا۔ مگر لوگ موجودہ دنیا کو اس استعجابی نگاہ سے نہیں دیکھ پاتے جس طرح چاند کا ایک نیا مسافر چاند کو دیکھتا ہے۔ اگر ہم اپنی دنیا کو اس نظر سے دیکھنے لگیں تو ہر وقت ہم کو اپنے پاس "خدا کی موجودگی " کا تجربہ ہو۔ ہم اس طرح رہنے لگیں جیسے کہ ہم خدا کے پڑوس میں رہ رہے ہیں اور ہر وقت وہ ہماری نظروں کے سامنے ہے۔

اگر ہم ایک اعلیٰ درجہ کی مشین کو پہلی بار دیکھیں تو فی الفور ہم اس کے ماہر انجینئر کی موجودگی کو وہاں محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اسی طرح اگر ہم دنیا کو اور اس کی چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھ سکیں تو اسی وقت ہم وہاں خدا کی موجودگی کو پالیں گے۔ خالق ہم کو اس طرح نظر آئے گا کہ ہم خالق اور تخلیق کو ایک دوسرے سے جدا نہ کر سکیں۔ موجودہ دنیا میں انسان کی سب سے بڑی یافت یہ ہے کہ وہ خدا کو دیکھنے لگے ، وہ اپنے پاس خدا کی موجودگی کو محسوس کرے۔ اگر آدمی کا احساس زندہ ہو تو سورج کی سنہری کرنوں میں اس کو خدا کا نور جگمگا تا ہوا دکھائی دے گا ہرے بھرے درختوں کے حسین منظر میں وہ خدا کا روپ جھلکتا ہوا پائے گا۔ ہواؤں کے لطیف جھونکے میں اس کو لمس ربانی کا تجربہ ہوگا۔ اپنی ہتھیلی اور اپنی پیشانی کو زمین پر رکھتے ہوئے اس کو ایسا محسوس ہوگا گویا اس نے اپنا وجود اپنے رب کے قدموں میں ڈال دیا ہے۔ خدا ہر جگہ موجود ہے بشرطیکہ دیکھنے والی نگاہ آدمی کو حاصل ہو جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1983 All issues

Printed page