Al-Risala · April 1983 · page 13

سچائی کو پانے والا

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۳، صفحہ ۱۳

سچائی کو پانے والا

معانی کی دنیا خدا کے جلووں کی دنیا ہے۔ کون ہے جو خدا کے جلووں کو انسانی زبان میں بیان کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں الفاظ ختم ہوجاتے ہیں وہاں سے معانی کا آغاز ہوتا ہے۔ جب ہم کسی معنی کو بیان کرتے ہیں تو ہم اس کو بیان نہیں کرتے بلکہ اس کو کچھ گھٹا دیتے ہیں، اس کے اوپر ایک قسم کا لفظی پردہ ڈال دیتے ہیں۔

کسی با معنی حقیقت کو کوئی آدمی صرف اس کے الفاظ سے سمجھ نہیں سکتا۔ ایک اندھا شخص کسی کے بتانے سے یہ نہیں جان سکتا کہ پھول کیا ہے خواہ اس نے پھول کے تعارف کے لئے انسانی زبان کے تمام الفاظ جمع کردئے ہوں۔ اسی طرح ایک شخص جس نے معنوی حقیقتوں کو دیکھنے کی صلاحیت اپنے اندر نہ جگائی ہو وہ معنوی حقیقتوں سے باخبر نہیں ہوسکتا ، خواہ ڈکشنری کے تمام الفاظ اس کے سامنے دہرا دئے جائیں ، خواہ قاموس المعانی کی تمام جلدوں کو اسے پڑھا دیا جائے۔

ہدایت ہر آدمی کی فطرت کی آواز ہے مگر ہدایت اسی کو ملتی ہے جو اپنے اندر اس کی سچی طلب رکھتا ہو۔ جو اپنے اندر سچائی کی کھٹک لئے ہوئے ہو، سچائی جس کی ضرورت بن گئی ہو۔ جو سچائی کو پانے کے لئے اتنا بے قرار ہو کہ وہ اسی کی یاد لے کر سوتا ہو اور اسی کی یاد لے کر جاگتا ہو۔ جو آدمی اس طرح سچائی کا طالب بن جائے وہی سچائی کو پاتا ہے۔

ایسا شخص گویا ہدایت کا نصف راستہ طے کر چکا ہے۔ وہ اپنے اندر چھپے ہوئے عہد الست کی خدائی آوازوں کو سن رہا ہے، وہ اپنے اندر اس فطری صلاحیت کو بیدار کر چکا ہے جو معانی کی زبان کو سمجھتی ہے۔ ایسا شخص غیر حقیقی دنیا سے بے رغبتی کی وجہ سے حقیقی دنیا کے اتنا قریب آجاتا ہے کہ وہ فرشتوں کی سرگوشیوں کو سننے لگتا ہے۔

پیغمبر اس تلاش حق کی راہ میں آدمی کا مددگار ہے۔ پیغمبر کے ذریعہ حقیقت کا علم ملنے سے پہلے یہ تمام تجربات آدمی کے اندر مبہم اور مجہول انداز میں ہوتے ہیں۔ اس کے بعد جب پیغمبر کی آواز اس کے اندر داخل ہوتی ہے تو وہ اس کی کتاب فطرت کی تفسیر بن جاتی ہے۔ وہ اپنے اندر چھپے ہوئے غیر ملفوظ اشارات کو ملفوظ زبان میں پالیتا ہے۔ قرآن اور قرآن کو پڑھنے والا دونوں ایک دوسرے کا ثمنی بن جاتے ہیں ۔ قرآن وہ بن جاتا ہے اور وہ قرآن۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1983 All issues

Printed page