کائنات کا دسترخوان
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۳، صفحہ ۱۲
کائنات کا دسترخوان
قرآن میں ہے کہ اللہ آسمان و زمین کا نور ہے (نور) اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا تمام کی تمام خدائی صفات کا مظہر ہے۔ حساس قلب کو یہاں کی ہر چیز میں خدا کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ رزق خداوندی کا دسترخوان ہے۔
خدا پر ایمان اگر کسی آدمی کو وہ حساسیت دیدے جو خدا پر سچے ایمان سے پیدا ہوتی ہے تو کائنات میں فی الواقع اس کو ہر طرف خدا کا نور دکھائی دے گا۔ ہوا کے لطیف جھونکے جب اس کے جسم کو چھوئیں گے تو اس کو ایسا محسوس ہوگا کہ لمس خداوندی کا کوئی حصہ اسے مل رہا ہے۔ دریاؤں کی روانی میں اس کو رحمت حق کا جوش ابتدا ہو نظر آئے گا۔ چڑیوں کے چہچہے جب اس کے کان میں رس گھولیں گے تو اس کے دل کے تاروں پر زمزمہ خداوندی کے نغمے جاگ اٹھیں گے۔ پھولوں کی مہک جب اس کے مشام جان کو معطر کرے گی تو وہ اس کے لئے خدائی خوشبو میں نہانے کے ہم معنی بن جائے گی۔ ساری کائنات مومن کے لئے رزق روحانی کا دسترخوان ہے، ویسے ہی جیسے جنت اس کے لئے رزق مادی کا دسترخوان ہوگی۔ موجودہ دنیا کی تمام چیزوں کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ ان کو دیکھ کر انسان عبرت حاصل کرے ، ان کے ذریعہ وہ ان ربانی کیفیات کو پالے جو ان کے اندر ان لوگوں کے لئے رکھ دی گئی ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہوں ۔
ڈھاک ایک معمولی درخت ہے۔ مگر اس کے اوپر بے حد حسین پھول اگتے ہیں۔ موسم خزاں کے پت جھڑ کے بعد اس کا درخت بظاہر ایک سوکھی لکڑی کی مانند ، اس سے بھی زیادہ ایک سوکھی زمین پر کھڑا ہوتا ہے ۔ اس کے بعد ایک خاموش انقلاب آتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر نہایت خوش رنگ پھول اس کی شاخوں میں کھل اٹھتے ہیں۔ سوکھی لکڑی کا ایک ڈھانچہ لطیف اور رنگین پھولوں سے ڈھک جاتا ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ایک محروم اور بے قیمت وجود کے لئے خدا نے خصوصی طور پر اپنی خوب صورت چھتری بھیج دی ہے۔
ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ کوئی بندہ خدا اس کو دیکھ کر کہے ـــــ " خدایا! میں بھی ایک ڈھاک ہوں ، تو چاہے تو میرے اوپر حسین پھول کھلا دے ۔ میں ایک ٹھنٹھ ہوں ، تو چاہے تو مجھ کو سر سبز و شاداب کر دے ۔ میں ایک بے معنی وجود ہوں ، تو چاہے تو میری زندگی کو معنویت سے بھر دے۔ میں جہنم کے کنارے کھڑا ہوں تو چاہے تو مجھ کو جنت میں داخل کر دے۔ "
‹ Previous page Next page › Contents of April 1983 All issues