Al-Risala · April 1983 · page 23

یہ تضاد کیوں

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۳، صفحہ ۲۳

یہ تضاد کیوں

آسمان کے نیچے ہونے والے تمام واقعات میں سب سے زیادہ عجیب واقعہ یہ ہے کہ یہاں داداگِیری کی صلاحیت کا استعمال ہے مگر سنجیدگی کی صلاحیت کا کوئی استعمال نہیں۔ یہاں شاطر آدمی اپنی پوری قیمت پالیتا ہے مگر شریف آدمی کو یہاں کوئی قیمت نہیں ملتی۔ ہر ایک کو خوش کرنے والی زبان بولنے والے کو یہاں خوب مقبولیت حاصل ہوتی ہے مگر جو شخص غیر مصلحت پرستانہ انداز میں بولے اور حق کو حق اور باطل کو باطل کہے اس کو یہاں کوئی عزت اور مقبولیت حاصل نہیں ہوتی۔

یہ سب ایک ایسی دنیا میں ہورہا ہے جو اپنی ذات میں بالکل بے عیب ہے۔ جہاں درخت کمال کا ایک انتہائی خوش منظر نمونہ بنے ہوئے کھڑے ہیں۔ جہاں چڑیاں اس کے سوا کوئی اور بولی نہیں جانتیں کہ وہ حسن اور سلامتی کے نغمے گائیں۔ جہاں سورج اور چاند صرف روشنی بکھیرتے ہیں، ان کو تاریکی بکھیرنا اور اندھیرا پھیلانا نہیں آتا جہاں ستارے صرف اپنے اپنے مدار میں گھومتے ہیں، کوئی ستارہ دوسرے کے مدار میں داخل ہو کر وہاں اپنا جھنڈا گاڑنے کے لئے نہیں دوڑتا۔

انسان اور بقیہ کائنات میں یہ تضاد دیکھ کر کچھ لوگوں نے کہا کہ یہاں دو خدا ہیں، ایک نور کا اور دوسرا ظلمت کا۔ کسی نے کہا کہ یہاں کوئی خدا ہی نہیں۔ اگر کوئی خدا ہوتا تو دنیا میں یہ الٹ پلٹ نظام کیوں کر جاری رہتا۔

مگر صحیح یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ مثالی دنیا اس کے بعد آنے والی ہے اور انسان کے سوا بقیہ کائنات اسی کا ایک ابتدائی تعارف ہے۔ امتحان کا یہ لازمی تقاضا تھا کہ انسان کو عمل کی پوری آزادی ہو۔ اسی آزادی کا یہ نتیجہ ہے کہ کوئی شخص سیدھا راستہ اختیار کرتا ہے اور کچھ لوگ ٹیڑھے راستہ پر چلتے ہیں، مگر قیامت کے بعد جب مثالی دنیا قائم ہوگی تو وہاں وہی لوگ جگہ پائیں گے جنھوں نے موجودہ دنیا میں اس بات کا ثبوت دیا ہو گا کہ وہ مثالی انداز میں سوچنے اور مثالی کردار کے ساتھ زندگی گزارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بقیہ تمام لوگ چھانٹ کر اسی طرح دور پھینک دئے جائیں گے جیسے کوڑا کرکٹ سمیٹ کر پھینک دیا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1983 All issues

Printed page