تو لے جانے سے پہلے تول لو
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۳، صفحہ ۲۴
تو لے جانے سے پہلے تول لو
موجودہ دنیا میں چیزوں کے دوروپ ہیں۔ ایک ظاہر اور دوسرا باطن۔ یہاں ہر آدمی کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے باطنی وجود میں برائی لئے ہوئے ہو مگر زبان سے خوبصورت الفاظ بول کر اپنے کو اچھی صورت میں ظاہر کرے۔ قیامت اس لئے آئے گی کہ ظاہر و باطن کے اس فرق کو مٹادے۔ قیامت کا زلزلہ تمام ظاہری پر دوں کو پھاڑ دے گا تا کہ ہر انسان کے اوپر سے اس کا خول اتر جائے اور وہ اپنی اصلی اور حقیقی صورت میں سامنے آجائے۔
وہ دن بھی کیسا عجیب ہو گا جب حقیقتوں سے پردہ اٹھایا جائے گا۔ کتنے لوگ جو آج انصاف کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں اس دن وہ مجرموں کے کٹہرے میں نظر آئیں گے۔ کتنے لوگ جو آج اہم ترین شخصیت سمجھے جاتے ہیں اس دن وہ کیڑوں مکوڑوں سے بھی زیادہ حقیر دکھائی دیں گے۔ کتنے لوگ جن کے پاس آج ہر بات کا شان دار جواب موجود ہوتا ہے اس دن وہ ایسے بے جواب ہو جائیں گے جیسے کہ ان کے منھ میں الفاظ ہی نہیں۔
آج ایک شخص کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے پڑوسی کو ستائے اس کے باوجود اس کو دینداری کے اسٹیج پر بیٹھنے کے لئے نمایاں جگہ ملی ہوئی ہو۔ ایک شخص اپنی شان وشوکت دکھانے کے لئے سرگرم ہو پھر بھی وہ مجاہد اسلام کے نام سے شہرت پائے۔ ایک شخص اپنے اہل معاملہ سے بے انصافی کا طریقہ اختیار کرے اس کے باوجود امن وانصاف کے اجلاس میں اس کو صدارت کرنے کے لئے بلایا جائے۔ ایک شخص کی خلوتیں اللہ کی یاد سے خالی ہوں مگر اجتماعی مقامات پر وہ اللہ کے نام کا جھنڈا اٹھانے والا سمجھا جاتا ہو۔ ایک شخص کے اندر مظلوم کی حمایت کا کوئی جذبہ نہ ہو اس کے باوجود اخبارات کے صفحہ پر اس کو مظلوموں کے حامی کی حیثیت سے نمایاں کیا جارہا ہو۔
ہر آدمی کی حقیقت خدا کے علم میں ہے مگر دنیا میں خدا لوگوں کی حقیقت چھپائے ہوئے ہے۔ آخرت میں وہ ہر ایک کی حقیقت کھول دے گا۔ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ خدا کی تراز و کھڑی ہو اور ہر آدمی کو تول کر دکھا دیا جائے کہ کون کیا تھا اور کون کیا نہیں تھا۔ اس وقت کا آنا مقدر ہے۔ کوئی شخص نہ اس کو ٹال سکتا اور نہ کوئی شخص اپنے آپ کو اس سے بچا سکتا ۔ کامیاب صرف وہ ہے جو آج ہی اپنے کو خدا کی تراز و میں کھڑا کرلے۔ کیونکہ جو شخص کل خدا کی تراز و میں کھڑا کیا جائے اس کے لئے بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1983 All issues