دھوکے بازی
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۳، صفحہ ۲۵
دھوکے بازی
برطانیہ کا ایک آرٹسٹ ہے جس کا نام اسٹیفن پرینسٹلی (Stephen Priestley) ہے۔ چیسٹر (انگلینڈ) میں ایک نیلام میں اس کی چار تصویریں رکھی گئیں۔ اس کی تصویروں کی قیمت صرف ایک پونڈ لگی۔ چنانچہ اسٹیفن پرینسٹلی (رپیدائش ۱۹۵۱) کو ایک پونڈ کا چک دے دیا گیا۔
برطانوی آرٹسٹ ایک پونڈ کا چک پا کر بہت خفا ہوا۔ اس کے نزدیک اس کی ان چار تصویروں کی قیمت اس سے بہت زیادہ تھی جتنی قیمت خریدار کی طرف سے اس کو ملی۔ اس نے اپنے چک پر ایک پونڈ کی رقم کو ۱۰۰۱ پونڈ بنا دیا۔ وقتی طور پر اس نے بنک سے ۱۰۰۱ پونڈ کی رقم حاصل کرلی۔ مگر بہت جلد بنک والوں کو معلوم ہو گیا کہ اس نے بنک کے سامنے جو چک پیش کیا اس کی رقم جعلی تھی۔ اسٹیفن پرینسٹلی کو پولس کے حوالے کر دیا گیا۔ اب وہ جیل میں دھوکے بازی کے جرم میں سزا بھگت رہا ہے (ہندوستان ٹائمز ۲ اکتوبر ۱۹۸۱)
اس واقعہ کا تعلق دنیا کے معاملہ سے ہے۔ مگر اسی میں آخرت کے معاملہ کی تصویر بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ بہت سے لوگ ہیں جن کے پاس صرف ایک پونڈ کا "عمل" ہے مگر وہ اس کو ایک ہزار ایک پونڈ دکھاکر کیش کرانا چاہتے ہیں۔ کوئی دین کا ایک جزئی کام کر رہا ہے اور اسی کو وہ کلی کام بتاتا ہے، کوئی ذاتی شہرت کے لئے سرگرم ہے اور اس کو خدمت دین کا عنوان دئے ہوئے ہے۔ کوئی قومی عصبیت کے تحت متحرک ہے اور اس کو اسلامی تحریک قرار دینا چاہتا ہے۔ کوئی اپنے سیاسی ذوق کی تسکین کر رہا ہے اور کہتا یہ ہے کہ وہ اسلامی نظام قائم کرنے کے لئے اٹھا ہے۔ کوئی دولت و عزت کی خاطر کسی کے پیچھے دوڑتا ہے اور اس کو اسلامی اخوت کے پر فخر لفظ سے یاد کرتا ہے۔ کوئی بحثوں اور مناظروں میں مصروف ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ احیاء اسلام کا مجاہد ہے۔ کوئی معمولی اصلاح کا کام کر رہا ہے اور اس کو دعوت و تبلیغ کا شاندار نام دئے ہوئے ہے۔
ان میں سے ہر شخص موجودہ دنیا میں بھر پور طور پر اپنی قیمت وصول کر رہا ہے۔ وہ اپنے معمولی عمل کو بہت بڑا عمل ثابت کر کے خوش ہے۔ مگر موت ان ساری خوش فہمیوں کو باطل کر دے گی ۔ موت کے بعد آنے والی عدالت میں ایسے تمام لوگ دھوکے بازی کے مجرم قرار پائیں گے ، خواہ آج کی دنیا میں وہ اپنے ایک پونڈ کے چک سے ایک ہزار ایک پونڈ کی رقم کیش کرانے میں کامیاب ہو گئے ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1983 All issues