Al-Risala · April 1983 · page 29

جنت والے

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۳، صفحہ ۲۹

جنت والے

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل ایمان کو جس جنت میں داخل کیا جائے گا اس کی معرفت انھیں اسی دنیا میں کرائی جاچکی ہوگی (دید خلهم الجنة عرفھا لھم،محمد)دوسری محمد) دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے کہ جنت کا رزق اس رزق کے مشابہ ہو گا جس کی توفیق انھیں دنیا کی زندگی میں ملی تھی واتوابہ متشابھا، بقرہ) حدیث میں کہا گیا ہے کہ جنت دوزخ دراصل انسان ہی کے اعمال ہیں جو آدمی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں (انما ھی اعمالكم تردالیکم اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں داخلہ کا آغاز اسی دنیا سے ہو جاتا ہے۔ جنتی انسان اپنی جنت کو اسی دنیا میں پا لیتا ہے۔ گویا کہ جنت کا ایک مثنیٰ اسی دنیا میں ہے اور آخرت کی جنت میں وہی شخص جائے گا جس نے دنیا میں جنت کے اس مثنیٰ کو پا لیا ہو۔ جنت کا یہ دنیوی مثنیٰ گویا نقد انعام ہے جو اصل انعام سے پہلے اس کی ایک ابتدائی علامت کے طور پر دے دیا جاتا ہے۔

یہ جنتی کون ہے۔ یہ وہ شخص ہے جس نے دنیا میں ان کیفیات کا تجربہ کیا ہو جو آخرت میں اس کو جنت کا مستحق بنانے والی ہیں جس کے رونگٹے کھڑے ہو کر اس کو خدائی محاسبہ کا احساس دلا چکے ہوں ۔ جس کے قلب پر ٹکڑے کر دینے والی تجلیات کے نزول نے اس کو قربت خداوندی سے آشنا کیا ہو۔ جس نے بغض و انتقام کے جذبات کو اپنے اندر کچل کر عفُو خداوندی کا مشاہدہ کیا ہو۔ جس نے اپنے ندامت کے آنسوؤں میں وہ منظر دیکھا ہو جب کہ ایک مہربان آقا اپنے خادم کے اعتراف قصور پر اس سے درگزر فرماتا ہے۔ جس پر یہ لمحہ گزرا ہو کہ ایک شخص پر قابو پانے کے باوجود وہ اس کو اس لئے چھوڑ دے کہ اس کا خدا بھی اس دن اسے چھوڑ دے جب کہ وہ اس سے زیادہ عجز کی حالت میں ہو گا۔ جو ایک امر حق کے آگے اس طرح گر پڑے جیسے لوگ آخرت میں خدا کو دیکھ کر ڈھ پڑیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ مومن جنت کا ایک پھول ہے۔ وہ موجودہ دنیا میں آنے والی دنیا کا ایک ابتدائی شگوفہ ہے۔ مومن پر وہ سارے تجربات اسی دنیا میں گزر جاتے ہیں جو دوسروں پر موت کے بعد گزر نے والے ہیں ۔ آدمی کی زندگی میں مختلف قسم کے جو حالات پیش آتے ہیں انھیں میں ہر آدمی کی جنت اور جہنم چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ ان حالات میں شیطانی رد عمل پیش کر کے کوئی شخص جہنم کا مستحق ہو جاتا ہے اور ملکوتی رد عمل پیش کر کے کوئی شخص جنت کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1983 All issues

Printed page