Al-Risala · April 1983 · page 30

پلاسٹک کے پھل اور پھول

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۳، صفحہ ۳۰

پلاسٹک کے پھل اور پھول

آج کل پلاسٹک کے پھول اور پھل بنتے ہیں۔ دیکھنے ہیں بالکل پھول اور پھل کی طرح معلوم ہونگے لیکن سونگھئے تو اس میں پھول کی خوشبو نہیں اور منہ میں ڈالئے تو اس میں پھل مزہ نہیں۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں دین داری کی عجیب و غریب قسم وجود میں آئی ہے۔ بظاہر اس میں دھوم کی حد تک دین دکھائی دے گا۔ لیکن قریب سے تجربہ کیجئے تو وہی چیز موجود نہ ہوگی جو دین کا اصل خلاصہ ہے: اللہ کا ڈر اور انسان کا درد۔ پلاسٹک کے دور میں شاید دین داری بھی پلاسٹک کی دین داری بن کر رہ گئی ہے۔ لوگ دین دار میں مگر کوئی شخص اپنی غلطی ماننے کے لئے تیار نہیں۔ کوئی شخص اللہ کی خاطر اپنی اکڑ ختم کرنا نہیں جانتا۔ ذاتی فائدہ کی خاطر بے شمار لوگ اپنے اختلاف اور شکایت کو بھول کر دوسروں سے جڑے ہوئے ہیں مگر خدا کی زمین پر کوئی نہیں جو خدا کے لئے اپنے اختلاف وشکایات کو بھول کر دوسرے سے جڑ جائے۔ دین اصلا اس کا نام ہے کہ آدمی اس حقیقت کو پا جائے کہ اس کا کائنات کا ایک خدا ہے۔ اسی نے تمام چیزوں کو بنایا ہے۔ وہ موت کے بعد تمام انسانوں کو جمع کرکے ان سے حساب لے گا اور پھر ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق یا تو ابدی جنت میں داخل کرے گا یا ابدی جہنم میں۔ یہ حقیقت اتنی سنگین ہے کہ اگر وہ فی الواقع کسی کے دل و دماغ میں اتر جائے تو اس کی زندگی کچھ سے کچھ ہو جاتی ہے۔ وہ ان تمام چیزوں کے بارے میں انتہائی حساس ہو جاتا ہے جو آدمی کو جہنم کی آگ میں پہنچانے والی ہیں اور ان تمام چیزوں کا انتہائی مشتاق ہو جاتا ہے جو آدمی کو جنت کے باغوں کا مستحق بنانے والی ہیں۔ وہ ہر چیز سے زیادہ اللہ سے ڈرنے لگتا ہے اور ہر چیز سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے لگتا ہے۔ وہ اپنی انفرادی ہستی کو خدا کی عظیم تر ہستی میں کھو دیتا ہے۔

خدا اور آخرت کے بارے میں اس کی بڑھی ہوئی حساسیت اس کو بندوں کے بارے میں بھی انتہائی محتاط اور ذمہ دار بنا دیتی ہے۔ ایک انسان سے بدخواہی کرتے ہوئے اسے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ اپنے آپ کو جہنم کے گڑھے میں گرا رہا ہے۔ بندوں کے ساتھ سرکشی کا سلوک کرتے ہوئے وہ اس طرح ڈرنے لگتا ہے جیسے کہ ہر آدمی اپنے ساتھ جہنم کے فرشتوں کی فوج لئے ہوئے ہے۔ اپنے صاحب معاملہ افراد سے بے انصافی کرنا اس کو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا اس نے اپنے آپ کو جہنم کے گہرے غار میں دھکیل دیا ہے۔ اب کوئی انسان اس کی نظر میں محض ایک انسان نہیں ہوتا بلکہ ہر انسان ایک ایسا وجود ہوتا ہے جس کے ساتھ خدا اپنے تمام فرشتوں کے ساتھ کھڑا ہوا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1983 All issues

Printed page