نظام تعلیم
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۱۷
نظام تعلیم
چارلس ایڈمس ایک امریکی عیسائی تھے۔ انھوں نے مصر میں رہ کر وہاں کی اسلامی تحریکوں کا گہرا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد انھوں نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے :
Islam and Modernism in Egypt
اس کتاب میں ایک جگہ وہ جامعہ ازہر (قاہرہ) پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں "روایت پرستی کی روح صدیوں سے جامعہ ازہر کی تعلیمی سرگرمیوں میں سرایت کئے ہوئے ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد یہ نہیں ہے کہ علمی تحقیق اور چھان بین کے ذریعہ متعلقہ علوم کو ترقی دی جائے۔ تعلیم کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس کے ذریعہ قد مار کا ذہنی سرمایہ ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتا رہے، بعینہ اسی حالت میں جیسا کہ اسلاف نے اپنے بعد والوں کو دیا تھا۔ آزادانہ تحقیق اور آزادانہ رائے قائم کرنے کا دروازہ اسلام میں تیسری صدی ہجری سے بند ہے۔ اس لئے مذہب کے مستند شارحین صرف دور ماضی میں ملتے ہیں اور بعد والوں کے لئے صرف یہ کام رہ گیا ہے کہ وہ اپنے اسلاف کے علمی سرمایہ کی شرح کرتے رہیں"۔
اس کتاب کی اشاعت کے بعد مصر کی جامعہ ازہر میں کافی تبدیلیاں ہو چکی ہیں۔ مصنف کا تبصرہ اب اس پر صرف جزئی طور پر ہی صادق آتا ہے۔ تاہم ہندوستان اور دوسرے بہت سے ملکوں کے اسلامی مدارس کے لئے یہ الفاظ آج بھی پوری طرح درست ہیں ۔
یہ صحیح ہے کہ اسلامی تعلیم کا معاملہ عام سیکولر تعلیم سے مختلف ہے۔ سیکولر تعلیم مطلق طور پر آزادانہ تحقیق کی قائل ہے۔ جب کہ اسلامی تعلیم کی بنیاد ہمیشہ قرآن وسنت پر ہوتی ہے۔ مگر ہمارے مدارس میں آج جو تعلیم دی جارہی ہے اس کے متعلق یہ بات بالکل صحیح ہے کہ اس کی بنیاد کتاب وسنت پر نہیں بلکہ ایک خاص دور میں پیدا ہونے والے کتاب وسنت کے شارحین پر ہے۔ کتابوں کی ایک خاص فہرست ہے جن کو مقدس مقام حاصل ہو گیا ہے۔ حتیٰ کہ اب قرآن وحدیث بھی انھیں کتابوں کی روشنی میں پڑھائے جاتے ہیں نہ کہ ان کتابوں کو قرآن وحدیث کی روشنی میں پڑھایا جائے۔
اس طرز تعلیم کا براہ راست نتیجہ جمود اور تنگ نظری ہے۔ یہ جمود اور تنگ نظری آج مسلم قوم کا سب سے بڑا خاصہ بن چکی ہے اور ہم اس کے وہ تمام نتائج بھگت رہے ہیں جو ایسی ذہنیت سے لازماً پیدا ہوتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues