Islam and Modernism in Egypt
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۱۸
کامیابی کا راز
ایک جاہل شخص ہندوستان سے عراق گیا۔ وہاں سے وہ دو سال کے بعد واپس آیا تو ایک آدمی نے پوچھا کہ کتنا پیسہ کما کر لائے۔ اس نے کہا کہ میں زیادہ تو نہیں کما سکا۔ پھر بھی کہانی کر پچاس ہزار روپے لایا ہوں۔ آدمی نے دوبارہ پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ پیسہ حاصل کرنے کا راز کیا ہے۔ اس نے جواب دیا: بھائی صاحب، میں نے تو یہ جانا کہ من مارو گے تو منی پاؤ گے۔
منی (دولت) پانے کا راز یہ ہے کہ آدمی صبر کے ساتھ کام کرے، اپنے ذوق پر چلنے کے بجائے دوسروں کی رعایت کرتے ہوئے جد و جہد کرے ۔ کیونکہ دولت حاصل کرنے کا مطلب دوسروں کی جیب سے دولت نکالنا ہے۔ پھر اگر آپ دوسروں کی رعایت نہ کریں گے تو دوسرا شخص آپ کو یہ موقع کیوں دے گا کہ آپ اس کے جیب کی دولت نکال کر اپنی جیب میں ڈالیں۔
دولت حاصل کرنے کا راز من کو مارنا ہے۔ اپنے ذوق پر چلنے کے بجائے دوسرے کے ذوق پر چلنا ہے۔ یہی بات دوسرے مقاصد کے لئے بھی صحیح ہے اور یہی بات دینی مقصد کے لئے بھی۔ اس دنیا میں آدمی کو دوسرے بہت سے لوگوں کے درمیان کام کرنا پڑتا ہے۔ اپنے سے باہر بہت سے حالات سے مقابلہ کر کے اپنا سفر جاری کرنا ہوتا ہے۔ اس لئے اس دنیا میں کوئی کامیابی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک یہ نہ ہو کہ آدمی اپنے ذاتی خول سے باہر آئے، وہ اپنی من مانی کارروائی کرنے کے بجائے دوسرے افراد اور خارجی حالات کی رعایت کرتے ہوئے اپنا راستہ نکالے۔ وہ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی شامل کرلے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا میں آدمی اپنے آپ کو کچل کر دوسرے کو پاتا ہے۔ خارجی تقاضوں کا اعتراف کر کے وہ خارج سے اپنا اعتراف کروانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ اپنے سے باہر کی دنیا کو کچھ دینے کے بعد ہی اس کے لئے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ باہر کی دنیا سے اپنے آپ کے لئے کچھ پاسکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues