Al-Risala · May 1983 · page 2

سننے والا سن رہا ہے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۳، صفحہ ۲

سننے والا سن رہا ہے

امریکہ کے خفیہ محکمہ (N.S.A) کے ایک سابق افسر نے ایک کتاب شائع کی ہے جس کا نام (The Puzzle Palace) ہے ۔ اس کتاب میں اس کے مصنف نے بڑے دلچسپ انکشافات کئے ہیں۔ ان میں سے ایک کو ہم یہاں نقل کرتے ہیں۔

اندازہ کیا گیا ہے کہ امریکہ سے بھیجے جانے والے ٹیلی فون، ٹیلیگراف اور تار کے پیغامات کی تعداد ہر روز ایک ملین سے زیادہ ہوتی ہے۔ جدید نظام کے مطابق یہ پیغامات پہلے ورجینیا کے زمینی اسٹیشن (Earth Station) پر موصول ہوتے ہیں۔ وہاں سے وہ مصنوعی سیارہ کی طرف بھیجے جاتے ہیں جو ۲۳۰۰ میل اوپر زمین کے چاروں طرف گھوم رہے ہیں۔ یہ سارا عمل فی الفور ایک سیکنڈ سے بھی کم وقفہ میں انجام پاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مشینی پیغام جو امریکہ سے باہر جاتا ہے یا امریکہ کے اندر آتا ہے وہ اصل مخاطب تک پہنچنے سے پہلے امریکی حکومت تک پہنچتا ہے۔ چنانچہ امریکہ کا خفیہ محکمہ جن لوگوں کے پیغامات کو جاننا چاہتا ہے ، ان کا نمبر وہ زمینی اسٹیشن کے دفتر میں دیدیتا ہے۔ یہاں مذکورہ افراد کی گفتگوئیں اور پیغامات خود کار آلات کے ذریعہ ریکارڈ ہوتے رہتے ہیں۔ گویا آپ اگر واشنگٹن سے دہلی کے لئے ٹیلی فون کریں تو آپ کے منہ سے جو الفاظ نکلیں گے ، قبل اس کے کہ آپ کا مخاطب ان کو سنے ، امریکہ کی حکومت ان کو سن چکی ہوگی ۔ ٹائمس آف انڈیا (۱۹ دسمبر ۱۹۸۲) کے امریکی نامہ نگار نے اس کی رپورٹ دیتے ہوئے اس کا عنوان قائم کیا ہے ۔ ہوشیار! ممکن ہے کہ امریکہ آپ کی بات سن رہا ہو۔ Careful, Uncle Sam may be listening. اس قسم کے واقعات خدا کی نشانی ہیں۔ وہ اس لئے ہو رہے ہیں تاکہ آدمی اپنی زبان کو احتیاط کے ساتھ استعمال کرے۔ آدمی دوسرے آدمی سے ایک غلط بات کہتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ میں صرف ایک آدمی سے کہہ رہا ہوں مگر آدمی کو جاننا چاہئے کہ اس کی بات اس کے مخاطب سے پہلے خدا تک پہنچ رہی ہے۔ مذکورہ واقعہ زبان حال سے کہہ رہا ہے۔ اے انسان، ہوشیار رہ، کیونکہ تیری ہر بات کو خدا سن رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1983 All issues

Printed page