خدا کی نشانیاں
الرسالہ، مئی ۱۹۸۳، صفحہ ۳
خدا کی نشانیاں
ستمبر ۱۹۸۰ء کی سات تاریخ تھی ۔ میں افریقہ کے ایک پہاڑی علاقہ میں ایک درخت کے سامنے کھڑا تھا۔ یہ درخت میرے لئے نیا تھا۔ اس سے پہلے میں نے اس قسم کا درخت نہیں دیکھا تھا۔
درخت اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کی نشانی معلوم ہورہا تھا۔ اس کی ہرچیز میری نظر میں عجیب تھی، اس کا نازک پھول ، اس کا ترشا ہوا پھل، ریاضیاتی کاریگری کے ساتھ بنی ہوئی اس کی پتیاں تمام چیزیں پکار رہی تھیں کہ وہ اپنے آپ نہیں اگ آئی ہیں، بلکہ کسی بنانے والے نے ان کو بنایا ہے۔ اس دنیا کا ہر درخت خدا کی صنعت گری کا نمونہ ہے۔ مگر مذکورہ درخت پہلی بار میرے سامنے آیا اس لئے وہ خصوصی طور پر میرے لئے اثر انگیز ثابت ہوا۔
افریقہ کے اس عجیب اور حسین درخت کو دیکھ کر بے ساختہ میری زبان سے نکلا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے اس دنیا میں جو چیزیں بنائیں ان میں سے ہر چیز پر اس نے یہ لکھ دیا : Made by God (خدا کا بنایا ہوا) خدا نے چیزوں پر یہ لکھا اور اس کے بعد اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا لیا۔ تاکہ لوگ مخلوق کو دیکھ کر خالق کو پہچانیں، تاکہ غیب کے باوجود لوگ اس دنیا میں خدا کی موجودگی کو پالیں۔ ایک شخص جو مشینوں کا ماہر ہو وہ ایک مشین کو دیکھ کر کہہ دیتا ہے کہ یہ مشین روس کی بنی ہوئی ہے یا امریکہ کی، برطانیہ کی بنی ہوئی ہے یا جاپان کی۔ یہی کائنات کی تمام چیزوں کا حال ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں بے شمار قدرتی مشینیں موجود ہیں اور ہر ایک مسلسل اپنا کام کر رہی ہے ۔ ان ’’مشینوں‘‘ پر بظاہر ان کی ساخت کا کتبہ نہیں لگا ہوا ہے، مگر اپنی غیر معمولی بناوٹ اور ناقابل بیان حد تک ممتاز کارکردگی کی وجہ سے وہ اپنی ساخت کا آپ اعلان ہیں۔ مخلوقات خود اپنے خالق کو بتا رہی ہیں۔
کائنات کی کسی چیز کے اوپر لفظوں میں یہ نہیں لکھا ہوا ہے کہ اس کو کس نے بنایا۔ مگر معنوی طور پر ہر ایک کے اوپر لکھا ہوا موجود ہے۔ اگر دیکھنے والی نگاہ ہو تو آدمی ہر چیز کو دیکھ کر پکار اٹھے گا: بلاشبہ یہ خدا کی بنائی ہوئی ہے۔ کوئی دوسرا اس کو بنا نہیں سکتا۔