آخری منزل
الرسالہ، مئی ۱۹۸۳، صفحہ ۴
آخری منزل
ایورسٹ دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ہے۔ ہمالیہ کی یہ مشہور چوٹی سطح سمندر سے ۲۹۰۲۸ فٹ ۸۸۴۸ میٹر) بلند ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلا قابل ذکر شخص جس نے اس بلند چوٹی پر اپنا قدم رکھنے کی سنجیدہ کوشش کی وہ ایک انگریز مورس ولسن (Maurice Wilson) تھا۔ اس نے ۱۹۳۴ میں اس کے اوپر چڑھائی کی۔ مگر جس چیز کو اس نے اپنی زندگی کا کلائمکس سمجھا تھا وہ اس کے لئے اینٹی کلائمکس (Anti-clomax) بن گیا۔
مورس ولسن پہلی جنگ عظیم میں ایک سپاہی تھا۔ اس کو دنیا کی "آخری بلندی" پر پہنچنے کا اتنا زیادہ شوق تھا کہ اس نے اپنے خاندان کی کامیاب تجارت کو اس کے اوپر قربان کر دیا۔ اس نے اپنا تمام سرمایہ خرچ کر کے ذاتی طور پر ایک سکینڈ ہینڈ ہوائی جہاز خریدا۔ وہ انگلستان سے ہندوستان تک چھ ہزار میل کا سفر طے کرکے پورنیہ میں اترا۔ اس کو اپنا ہوائی جہاز آگے لے جانے کی اجازت نہیں ملی۔ چنانچہ اس نے اپنا جہاز فروخت کر دیا۔ اس کے بعد اس نے دار جیلنگ اور تبت کے راستے سے ایورسٹ کی طرف سفر شروع کر دیا۔
آخر میں اس کے پاس ایک چھوٹا خیمہ، کچھ چاول، ایک خود کار کیمرہ اور چند دوسری چیزیں باقی رہ گئیں۔ تاہم وہ اوپر چڑھتا رہا۔ وہ کامیابی کے ساتھ ۱۹۵۰۰ فٹ کی بلندی تک چڑھ گیا۔ ۲۱ اپریل ۱۹۳۴ کو اس کی ۳۶ ویں برتھ ڈے تھی۔ اس کا منصوبہ تھا کہ وہ اپنی زندگی کے اس تاریخی دن کو ایورسٹ کی چوٹی پر کھڑا ہو۔ اس نے اپنی ڈائری میں چند دن پہلے یہ الفاظ لکھے: Only 13000 feet more to go. I have the distinct feeling that I’ll reach the summit on April 21 صرف تیرہ ہزار فٹ جانا اور باقی ہے۔ مجھے یہ واضح احساس ہورہا ہے کہ میں ۲۱ اپریل (۱۹۳۴) کو چوٹی پر پہنچ جاؤں گا۔
ان پر فخر سطروں کو لکھنے کے بعد ہمالیہ کا سخت طوفان اور موسم کی شدت اس کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔ وہ مجبور ہو گیا کہ پیچھے لوٹے۔ چنانچہ وہ اتر کر اپنے نچلے ٹھکانہ پر آگیا۔ مگر اس کے بعد اس کو دوبارہ اوپر چڑھنا نصیب نہ ہوا۔ اس کے بعد اس کے ساتھ کیا