آہ یہ انسان
الرسالہ، مئی ۱۹۸۳، صفحہ ۶
آہ یہ انسان
تقریباً ایک درجن انڈے سامنے رکھے ہوئے تھے۔ بظاہر سب انڈے تھے۔ سب اوپر سے دیکھنے میں اچھے لگتے تھے۔ مگر جب توڑا گیا تو ایک کے بعد ایک سب خراب نکلتے چلے گئے۔ آخر میں یہ معلوم ہوا کہ ان میں کوئی ایک بھی اچھا تھا۔ سارے انڈے اندر سے خراب انڈے تھے اگرچہ بظاہر اوپر سے اچھے نظر آتے تھے۔
ایسا ہی کچھ حال آجکل انسانوں کا ہورہا ہے۔ بظاہر دیکھنے میں ہر آدمی آدمی ہے۔ وہ عمدہ کپڑے پہنے ہوئے ہے ۔ وہ خوبصورت باتیں کرتا ہے۔ اوپر سے ہر آدمی اچھا آدمی معلوم ہوتا ہے۔ ہر آدمی کے پاس اپنے کارناموں کی نہ ختم ہونے والی داستانیں ہیں۔ مگر جب تجربہ کیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اندر سے کچھ اور تھا۔ اوپر کے خوبصورت خول کے اندر ایک انتہائی بدمعیت اور بالکل مختلف قسم کا انسان چھپا ہوا تھا۔
جب کسی سے لین دین ہوتا ہے‘ جب کوئی واقعی معاملہ پڑتا ہے‘ جب شکایت اور تلخی کا کوئی موقع سامنے آتا ہے‘ جب کسی کے مفاد اور مصلحت پر ضرب پڑتی ہے تو اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ اندر کا اصلی انسان وہ نہ تھا جو اوپر سے دکھائی دے رہا تھا۔ خوبصورت کپڑوں کے اندر جو چیز چھپی ہوئی ہے وہ گندگی کے سوا اور کچھ نہیں۔ خود غرضی، سطحیات، ظاہرداری، فخراً، حسد، غرور، موقع پرستی، تعصب، استحصال ، یہی وہ چیزیں ہیں جو لوگ اپنے خوبصورت جسموں کے اندر چھپائے ہوئے ہیں۔ ہر آدمی بظاہر اچھا انڈاہے۔ مگر توڑنے کے بعد ہر آدمی خراب انڈاہے۔ یہی آج کی انسانی دنیا ہے۔ گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو آج کی دنیا میں صرف دو چیزیں نظر آتی ہیں۔ دکھ کی آہیں ، یا ظلم کے قہقہے۔ کچھ لوگ بے انصافیوں کا شکار ہو کر آہیں بھر رہے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے حیوانی ارادوں کی تکمیل کر کے فتح کے قہقہے لگا رہے ہیں۔ کچھ لوگ بے شعوری کے گڑھے میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور کچھ لوگ بے حسی کے گڑھے میں۔
مگر یہ صورت باقی رہنے والی نہیں۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ انسان اپنے آپ کو ایک اور دنیا میں پائے گا ۔ ایک ایسی دنیا جہاں فیصلہ کا سارا اختیار خدا کو ہوگا نہ کہ انسان کو۔