ایک شہر، دو کہانی
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۲۰
ایک شہر، دو کہانی
ستمبر ۱۹۸۲ میں ملک کے ایک شہر میں فساد ہوا۔ جانیں ضائع ہوئیں۔ دکان اور مکان جلا دئے گئے، تجارتوں اور صنعتوں کو تقریبا ایک ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ اور ان تمام نقصانات میں ۹۰ فی صد سے زیادہ حصہ مسلمانوں کا تھا۔
مگر اسی شہر میں ایک مدرسہ ہر قسم کے نقصان سے بالکل محفوظ رہا۔ ایک ہی شہر میں دو قسم کے انجام کا راز صرف یہ تھا کہ شہر کے بقیہ مسلمانوں نے مقابلہ آرائی کی پالیسی پر عمل کیا اور مدرسہ والوں نے صبر کی پالیسی پر۔ یہ مدرسہ "دشمنوں" کے علاقہ میں تھا۔ وہ ہر طرف سے دشمنوں سے گھرا ہوا تھا۔ عین اس وقت جب کہ سارے شہر میں قیامت برپاتھتی، ۱۱ ستمبر ۱۹۸۴ء کی رات کو دس بجے تقریبا پانچ سو آدمیوں کا غول آیا اور مدرسہ کو گھیر لیا۔ وہ لوگ نعرے لگا رہے تھے ۔ مدرسہ میں آگ لگا دو، ایک کو بھی زندہ نہ چھوڑ دو وغیرہ۔ مدرسہ کے پاس ایک میدان میں کنکر پتھر کافی پڑے ہوئے تھے۔ یہاں سے اٹھا اٹھا کر ان لوگوں نے مدرسہ میں پتھر پھینکنے شروع کئے ۔ ۸۔ ۱۰ آدمی مدرسہ کی چھت پر چڑھ گئے اور اوپر سے چیخنا شروع کیا۔
اس حالت میں مدرسہ والوں نے کیا کیا۔ جب انھوں نے دیکھا کہ فسادیوں کا غول ان کی طرف آ رہا ہے تو پہلے سے سوچے ہوئے منصوبہ کے مطابق انھوں نے تمام روشنیاں بجھا دیں۔ حالات کے تحت انھیں قطعی اندیشہ تھا کہ فسادی ان کے اوپر حملہ کرنے آئیں گے۔ انھوں نے باہم مشورہ سے طے کیا تھا کہ جب ایسا ہوگا تو ہم مدرسہ میں بالکل اندھیرا کر دیں گے اور کمروں میں داخل ہو کر یہ آیت پڑھنا شروع کریں گے : لَّا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ۔ ہم اس وقت تک کوئی جوابی کارروائی نہ کریں گے جب تک وہ بالکل ہمارے پاس نہ آجائیں۔
فسادیوں کا غول پتھر پھینک رہا تھا اور نعرے لگا رہا تھا اور مدرسہ کے تمام لوگ روشنیاں بجھا کر اپنے کمروں میں آیت قرآنی کا ورد کر رہے تھے۔ شہر کے عام مسلمانوں کے برعکس مدرسہ والوں کی اس خاموشی نے فسادیوں پر رعب ڈال دیا۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ کوئی گہری سازش ہے اور انھوں نے کوئی خاص تیاری کر رکھی ہے جس کو وہ اس وقت سامنے لائیں گے جب کہ ہم لوگ اندر داخل ہو جائیں گے۔ چنانچہ مجمع کی طرف سے کچھ لوگوں نے پکار کر کہنا شروع کیا واپس چلو، آگے نہ بڑھو، ورنہ تم میں سے کوئی بچ کر نہیں جائے گا، اس کے بعد چھت پر چڑھنے والے نیچے اتر آئے اور سارے کے سارے فسادی جدھر سے آئے تھے ادھر ہی واپس چلے گئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues