تلوار سے زیادہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۲۱
تلوار سے زیادہ
سابق صدر مصر انور سادات (۱۹۸۱ - ۱۹۱۸) کے قتل کے بعد امریکہ کے ٹائم میگزین (۱۹ اکتوبر ۱۹۸۱) نے اس واقعہ کے بارے میں خصوصی مضمون شائع کیا تھا۔ اس مضمون کا آغاز اس نے نپولین کے ایک قول سے کیا۔ نپولین نے اپنے آخری زمانہ میں سوال کیا: "کیا تم جانتے ہو کہ دنیا کے بارے میں کیا چیز مجھے سب سے زیادہ تعجب میں ڈالتی ہے"، اس کے بعد خود ہی جواب دیا کہ وہ چیز طاقت کی یہ بے بسی ہے کہ اس کے ذریعہ کسی چیز کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ بالآخر ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ دماغ تلوار کو فتح کر لیتا ہے : In the end, the sword is always conquered by the mind انور سادات نے مصر میں ہر قسم کی طاقت حاصل کر لی مگر ۶ اکتوبر ۱۹۸۱ کو وہ عین اس وقت قتل کر دیئے گئے جب کہ قاہرہ میں وہ اپنی تمام افواج کے ساتھ فتح سوئز (۱۹۷۳) کی تقریب منا رہے تھے۔ انور سادات کی عالی شان نشست گاہ میں آنے والے تمام لوگوں کی جانچ مخصوص آلات (Metal Detector) کے ذریعہ کی جا رہی تھی حتی کہ پریڈ میں حصہ لینے والے تمام فوجیوں کی رائفلوں کو کارتوس سے خالی کر دیا گیا تھا۔ مگر سادات کی فوج ہی کا ایک آدمی پریڈ سے نکل کر تیزی سے ڈائس کی طرف آیا اور قبل اس کے حفاظتی عملہ اس کو رو کے وہ سادات کو اپنی گولی کا نشانہ بنا چکا تھا۔
یہ واقعہ تلوار کے اوپر دماغ کی فتح کا واقعہ تھا، انور سادات کے کچھ مخالفین نے یہ تصور پھیلایا کہ انور سادات مرتد ہو چکے ہیں اور شریعت اسلام کے مطابق مرتد شخص قتل کا مستوجب ہوتا ہے۔ یہ تصور فوج تک پہنچا۔ لفٹینٹ خالد استامبولی شدت کے ساتھ اس سے متاثر ہوا۔ اس نے اپنے چند ساتھیوں کی مدد سے خفیہ منصوبہ بنایا اور فتح کی پریڈ کے دن منصوبہ کے مطابق سادات کو گولی مار کر قتل کر دیا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ذہن تلوار سے زیادہ طاقت ور ہے۔ تاریخ میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان نے اس ذہن کو زیادہ تر منفی مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے۔ مثبت مقاصد کے لئے ذہن کو استعمال کرنے کی مثالیں تاریخ میں بہت کم پائی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر عمل کرنے والوں نے انسانیت کو صرف تخریب کا تحفہ دیا ہے۔ بہت کم عمل کرنے والے ہیں جن کے عمل سے انسانیت کو تعمیر کا تحفہ ملا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues